کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹوکے کنٹریکٹر کے دفتر کو سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ میں اہم قانونی نکات پرتفصیلی بحث ہوئی اورعدالت نےسرکاری حکام کے اختیارات پر سخت سوالات اٹھا دیے۔سماعت کے دوران جسٹس سلیم جیسر نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ مختیار کار نے کس قانونی حیثیت میں کنٹریکٹر کا دفتر سیل کیا؟ جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ مختیار کار نے کوئی وجہ بتائے بغیر دفتر پر ٹھپہ لگا دیا، جبکہ مکان کے مالک کو بھی اس کارروائی کا علم نہیں تھا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ مختیار کار نے یہ کارروائی اکیلے نہیں کی بلکہ کے ایم سی بھی اس عمل میں شامل تھی، اور اس اقدام سے نقصان حکومت کو ہی ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار نے سیلنگ آرڈر کو چیلنج نہیں کیا بلکہ صرف دفتر ڈی سیل کرنے کی استدعا کی ہے، اور کے ایم سی کو اس مقدمے میں فریق بھی نہیں بنایا گیا۔اس موقع پر جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیے کہ کنٹریکٹر کے دفتر کو سیل کرکے ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جسٹس سلیم جیسر نے مزید کہا کہ اگر کنٹریکٹر کا قبضہ متنازع تھا تو اس کے لیے سول کیس یا دیگر قانونی فورمز موجود تھے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جب معاملہ کے ایم سی اور کنٹریکٹر کے درمیان تھا تو کے ایم سی خود دفتر کیوں سیل نہیں کرسکتا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نےبتایا کہ کےایم سی کمشنرکےپاس گیا تھا اور کمشنر نے مختیار کار کو کارروائی کی ہدایت دی۔سماعت کے دوران وکیل ٹرانس کراچی نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست میں ترمیم ضروری ہے کیونکہ کنٹریکٹ سے متعلق معاملات الگ نوعیت کے ہیں۔ اس پر جسٹس سلیم جیسر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت شاید فریقین کی بات نہیں سمجھ پا رہی اور استفسار کیا کہ ٹرانس کراچی آخر ہے کیا؟
وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ٹرانس کراچی بی آر ٹی منصوبوں کے لیے قائم کی گئی ہے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈیزائن فراہم نہ کیے جانے اور بار بار ڈیزائن تبدیل کرنے سے منصوبے میں غیر ضروری تاخیر ہوئی ہے۔ جسٹس سلیم جیسر نے کہا کہ چھ سال گزرنے کے باوجود سڑکیں تک مکمل نہیں ہوئیں۔وکیل ٹرانس کراچی نے مؤقف اپنایا کہ اسٹیشنز نہ بھی بنیں تو بی آر ٹی چل سکتی ہے، تاہم عدالت نے اس بیان پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ سڑکوں کی تعمیر بنیادی شرط تھی جو تاحال پوری نہیں ہوئی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ خود جاننا چاہتی ہے کہ مختیار کار نے کس اختیار کے تحت دفتر سیل کیا، اور اس حوالے سے کمشنر کو طلب کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ کنٹریکٹ سے متعلق تنازع فی الحال اس کیس کا حصہ نہیں ہے۔
مزید سماعت بعد میں کی جائے گی۔


