لیاری کے اسماعیل شہید پارک کی اراضی کا تنازع، اسسٹنٹ کمشنر اور ٹی ایم سی کے نمائندے عدالت میں پیش

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)لیاری کے اسماعیل شہید پارک کی اراضی سے متعلق تنازع کی سماعت کے دوران اسسٹنٹ کمشنر لیاری اور ٹی ایم سی لیاری کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران واٹر کارپوریشن، ٹی ایم سی اور درخواست گزار کے وکلا نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔
واٹر کارپوریشن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ادارہ پمپس کے ذریعے علاقے کو پانی فراہم کر رہا ہے اور ناظر رپورٹ بھی واٹر کارپوریشن کے مؤقف کی تصدیق کرتی ہے۔ ان کے مطابق ٹاؤن چیئرمین کی رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ متنازع جگہ پر کوئی کمرشل سرگرمی نہیں ہو رہی۔
درخواست گزار کے وکیل ولید خانزادہ نے عدالت میں شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پارک کے لیے عزیر بلوچ کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے، تاہم واٹر کارپوریشن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی فرد کے نام سے پارک ڈکلیئر کرنے سے وہ جگہ قانونی طور پر پارک نہیں بن جاتی۔
ٹی ایم سی لیاری کے وکیل جہانگیر کلہوڑو نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ چالیس لاکھ افراد کو پانی کی فراہمی سے جڑا ہوا ہے۔ اس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ آیا متنازع اراضی واٹر کارپوریشن کی ملکیت ہے یا نہیں۔
واٹر کارپوریشن کے وکیل نے بتایا کہ ادارے کے پاس اس زمین کی ٹائٹل دستاویز موجود نہیں ہے، جس پر جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ چیک کیا جائے، دستاویز ضرور موجود ہوگی۔ اس موقع پر جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ یہ واضح کیا جائے کہ زمین آخر کس کی ملکیت ہے۔
ٹی ایم سی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اصل اراضی سندھ حکومت کی ملکیت ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے پاس ایک ایک انچ زمین کا ریکارڈ ہوتا ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، واٹر کارپوریشن اور اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ مل کر مکمل معلومات حاصل کریں اور عدالت کو آگاہ کریں کہ متنازع اراضی کس کی ملکیت ہے۔
بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں