بجلی میٹرز کی قیمت اور ماہانہ کرایہ: دوہری وصولی یا کمپنی کی اجارہ داری؟

**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو)** پاکستان میں بجلی کے صارفین کو ایک طویل عرصے سے ایک ایسے مالی بوجھ کا سامنا ہے جو شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ نئے بجلی کنکشن کے حصول کے وقت صارف سے میٹر کی مکمل قیمت وصول کی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود ہر ماہ بجلی کے بل میں “میٹر رینٹ” کے نام سے ایک مستقل رقم چارج کی جاتی ہے، جس نے اب کئی قانونی اور اخلاقی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

**صارفین کے بنیادی سوالات:**
اس پالیسی کے حوالے سے عوامی حلقوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:
* **دوہری وصولی (Double Charging):** اگر صارف میٹر کی پوری قیمت ادا کر چکا ہے، جس کی تصدیق ادائیگی کی دستاویزات سے ہوتی ہے، تو پھر ہر ماہ “کرایہ” کس بنیاد پر لیا جا رہا ہے؟
* **ملکیت کا تعین:** اگر میٹر کمپنی کی ملکیت ہے تو اس کی خریداری کا بوجھ صارف پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟ اور اگر یہ صارف کی ملکیت ہے تو اپنی ہی چیز کا کرایہ ادا کرنا منطقی طور پر غلط ہے۔
* **شفافیت کا فقدان:** واپڈا اور دیگر تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی جانب سے اس پالیسی کی کوئی ٹھوس وضاحت موجود نہیں ہے کہ یہ وصولی مرمت کے لیے ہے یا محض کمپنی کے منافع کے لیے۔

**قانونی اور اخلاقی پہلو:**
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شے کی مکمل قیمت وصول کرنے کے بعد اس پر کرایہ لینا “دوہری وصولی” کے زمرے میں آتا ہے جو صارفین کے حقوق کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ معاشی طور پر پہلے سے پریشان حال صارفین پر اضافی بوجھ ہے۔

**مطالبات:**
عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ:
1. متعلقہ ادارے (نیپرا اور واپڈا) فوری طور پر میٹر کی ملکیت کی حیثیت واضح کریں۔
2. اگر میٹر صارف کی ملکیت قرار پاتا ہے تو ماہانہ میٹر رینٹ کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
3. اگر کمپنی اسے اپنی ملکیت کہتی ہے تو نئے کنکشن کے وقت میٹر کی قیمت وصول کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

بجلی کے بلوں میں پہلے ہی ٹیکسوں کی بھرمار ہے، ایسے میں اس طرح کے “پوشیدہ چارجز” کی وضاحت کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔

انسانی حقوق اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے ہمارے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کے تعاون سے ہم مظلوموں کی آواز بن سکتے ہیں۔ براہ کرم اس لنک کے ذریعے اپنی عطیات جمع کروائیں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں