**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو)** صوبائی وزیر داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت زمینوں پر قبضوں اور تجاوزات کے خلاف قائم کردہ کمیٹی کا چوتھا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد تاجر برادری اور عام عوام کو لینڈ گریبرز اور قبضہ مافیا سے فوری نجات دلانا اور ان کے مسائل کا حل نکالنا تھا۔
**اجلاس کی اہم کارروائی اور فیصلے:**
* **پیشرفت رپورٹ:** اجلاس کو بتایا گیا کہ کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے 23 کیسز میں سے 04 کیسز مکمل طور پر حل کیے جا چکے ہیں، جبکہ بقیہ حل طلب کیسز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
* **سخت قانونی کارروائی:** وزیر داخلہ سندھ نے دوٹوک الفاظ میں ہدایت دی کہ جو کیسز قبضے کے زمرے میں آتے ہیں، ان پر فوری ایف آئی آر (FIR) درج کی جائے اور ملوث افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں۔
* **ڈیڈ لائن:** ضیاء الحسن لنجار نے کمشنر کراچی کو ہدایت دی کہ زیر التواء کیسز کے حل کے لیے اگلے 15 روز کے اندر پروگریس رپورٹ جمع کرائی جائے۔
**وزیر داخلہ کے اہم ریمارکس:**
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ قبضہ مافیا معیشت کی ترقی کے لیے ناسور ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کمیٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے احکامات کے تحت تاجروں کو فوری ریلیف دینے کے لیے قائم کی گئی ہے اور حکومت سندھ کی اولین ترجیح کاروباری طبقے کے مسائل حل کرنا ہے۔
**تاجر برادری کا ردعمل:**
اجلاس میں شریک تاجر برادری کے نمائندوں نے قبضہ مافیا کے خلاف حکومت سندھ کے بروقت ایکشن پر شکریہ ادا کیا اور حکومتی اقدامات کی مکمل تائید و تعاون کا یقین دلایا۔
**شرکاء:**
اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن، ڈی جی کے ڈی اے، ڈی جی ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کمشنر کراچی اور چیئرمین اینٹی کرپشن نے شرکت کی۔ تاجر برادری کی جانب سے چیئرمین آباد (ABAD)، صدر کے سی سی آئی (KCCI)، ایف پی سی سی آئی (FPCCI) اور کاٹی (KATI) کے نمائندے بھی موجود تھے۔
انسانی حقوق اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے ہمارے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کے تعاون سے ہم مظلوموں کی آواز بن سکتے ہیں۔ براہ کرم اس لنک کے ذریعے اپنی عطیات جمع کروائیں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


