پاکستان کا آئین اور قانون خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ **HRNW** کے پلیٹ فارم سے ہم ان قوانین کی آگاہی کے لیے یہ معلوماتی مواد پیش کر رہے ہیں:
### **1. خواتین کے تحفظ کے قوانین**
خواتین کو ہراساں کرنے، تشدد اور امتیازی سلوک سے بچانے کے لیے درج ذیل قوانین اہم ہیں:
* **کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خلاف تحفظ کا قانون (2010/2022):**
یہ قانون ہر کام کرنے والی خاتون (خواہ وہ دفتر میں ہو، گھروں میں کام کرنے والی ہو یا کھیتوں میں) کو تحفظ دیتا ہے۔ ہر ادارے میں ‘انکوائری کمیٹی’ کا ہونا لازمی ہے جو شکایت ملنے پر کارروائی کرنے کی پابند ہے۔
* **گھریلو تشدد (تحفظ اور بچاؤ) ایکٹ:**
صوبائی سطح پر (مثلاً سندھ اور پنجاب میں) یہ قوانین خواتین کو جسمانی، ذہنی اور معاشی تشدد کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متاثرہ خاتون کو گھر سے نکالنے کے خلاف حکمِ امتناع دلوا سکتے ہیں۔
* **غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون:**
اس قانون کے تحت غیرت کے نام پر قتل کو ایک سنگین جرم قرار دیا گیا ہے اور اب مجرم “معافی” کے ذریعے سزا سے نہیں بچ سکتا۔
* **اینٹی ریپ (تحقیقات اور ٹرائل) ایکٹ:**
عصمت دری کے مقدمات کے جلد فیصلے کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام اور متاثرہ خواتین کی شناخت کی رازداری کو یقینی بنایا گیا ہے۔
### **2. بچوں کے حقوق اور تحفظ**
بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان میں درج ذیل قوانین نافذ العمل ہیں:
* **آرٹیکل 25-A (مفت تعلیم کا حق):**
آئینِ پاکستان کے تحت ریاست 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔
* **چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ (کم عمری کی شادی پر پابندی):**
سندھ میں شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی اسے 18 سال کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے تاکہ بچوں کی صحت اور تعلیم متاثر نہ ہو۔
* **بچوں سے مزدوری (چائلڈ لیبر) پر پابندی:**
آئین کے آرٹیکل 11 کے تحت 14 سال سے کم عمر بچے کو کسی بھی فیکٹری یا خطرناک جگہ پر کام پر رکھنا جرم ہے۔
* **زینب الرٹ ایکٹ:**
لاپتہ اور اغوا شدہ بچوں کی فوری بازیابی کے لیے وفاقی سطح پر ایک خودکار نظام بنایا گیا ہے جو پولیس اور دیگر اداروں کو فوراً الرٹ کرتا ہے۔
### **3. شکایت کہاں درج کروائیں؟**
اگر کسی بھی خاتون یا بچے کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، تو درج ذیل ذرائع سے مدد لی جا سکتی ہے:
1. **وزارتِ انسانی حقوق (MoHR) ہیلپ لائن:** کسی بھی قسم کی قانونی مدد یا شکایت کے لیے **1099** پر کال کریں۔
2. **پولیس مدد گار:** ہنگامی صورتحال میں **15** پر اطلاع دیں۔
3. **صوبائی محتسب (Ombudsman):** کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کی صورت میں براہِ راست صوبائی محتسب سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائڈ (HRNW)** تمام شہریوں، بالخصوص قانونی ماہرین اور سماجی کارکنوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ان قوانین کی آگاہی عام کریں تاکہ ایک پرامن اور انصاف پسند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
**رپورٹ:** *HRNW لیگل ڈیسک*


