6

اسلام آباد: بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ کا فیملی قوانین سے متعلق تاریخی فیصلہ

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** سپریم کورٹ آف پاکستان نے خلع اور گھریلو تنازعات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جامع تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع کی ڈگری جاری نہیں کی جا سکتی۔

یہ تاریخی فیصلہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بنچ نے جاری کیا۔ 12 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ بنچ کے معزز رکن جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا ہے، جس میں فیملی کورٹس کے لیے اہم گائیڈ لائنز طے کی گئی ہیں۔

عدالتی فیصلے کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:

### خلع اور مالی حقوق کا تحفظ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر کسی خاتون نے شوہر کے ظلم (Cruelty) کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کا کیس دائر کیا ہو، تو عدالت کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر خلع میں تبدیل کرنا خاتون کے مالی حقوق (جیسے حق مہر کی واپسی وغیرہ) کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ لہٰذا، عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو یہ اختیار دیں کہ آیا وہ ظلم کا دعویٰ ثابت کر کے علیحدگی چاہتی ہے یا اپنے مالی حقوق سے دستبردار ہو کر خلع قبول کرنا چاہتی ہے۔

### گھریلو تشدد اور ذہنی ظلم کی وسیع تعریف

عدالتِ عظمیٰ نے گھریلو تشدد اور ظلم کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ:

* گھریلو تشدد کا مطلب صرف جسمانی مار پیٹ نہیں، بلکہ اس میں ذہنی اذیت، تذلیل، نفسیاتی دباؤ اور بنیادی ضروریات سے محروم رکھنا بھی شامل ہے۔
* ذہنی ظلم (Mental Cruelty) میں جذباتی طور پر مفلوج کرنا، شریکِ حیات کو مسلسل نظر انداز کرنا اور اسے شدید ذہنی تکلیف میں مبتلا رکھنا شامل ہے۔

### فیملی کورٹس کے لیے ہدایات اور کیس کے حقائق

* **معیارِ ثبوت:** سپریم کورٹ نے فیملی کورٹس کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ خانگی و سول مقدمات میں فوجداری عدالتوں جیسا سخت معیارِ ثبوت (Standard of Proof) لاگو کرنے سے گریز کریں اور گھریلو جھگڑوں میں فریقین کے رویوں، حقائق اور حالات کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ کریں۔
* **کیس کے پس منظر:** زیرِ نظر کیس میں فریقین کی شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی تھی، جبکہ محض چند دن بعد 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر ہو گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ظلم قلیل مدت میں بھی ہو سکتا ہے اور ہر کیس کا فیصلہ اس کے اپنے مخصوص حقائق پر ہوتا ہے۔ موجودہ کیس میں بیوی عدالت میں ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے گئے، تاہم چونکہ شادی ابتدا میں ہی ختم ہو چکی تھی اور بیوی مسلسل علیحدگی پر قائم ہے، اس لیے رشتہ برقرار رکھنا ممکن نہیں۔

### کیس فیملی کورٹ کو ریمانڈ

سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کی جانب سے دیے گئے خلع کے فیصلے کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کو صرف خلع کے درست طریقہ کار اور خاتون کے مالی حقوق کے حتمی تعین کے لیے دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق، فیملی کورٹ اب خاتون کا حتمی بیان دوبارہ ریکارڈ کرے گی۔ اگر خاتون خلع کا انتخاب کرتی ہے تو قانونی شرائط (حق مہر کی واپسی وغیرہ) کے تحت فیصلہ ہوگا، اور اگر وہ اپنے ظلم کے دعوے پر ہی قائم رہتی ہے تو کیس کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو اس پورے عمل کو 30 دن کے اندر مکمل کرنے کا پابند کیا ہے۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:

[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں