**ملتان (ایچ آر این ڈبلیو)** — ملتان میں ایک کم سن بچے کو ہتھکڑی لگا کر عدالت لائے جانے کے معاملے نے بچوں کے قانونی حقوق اور پولیس کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں مبینہ طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ تھانہ بستی ملوک پولیس ایک 7 سالہ بچے اورنگزیب کو ہتھکڑی لگا کر کچہری لائی، جہاں ایک پولیس اہلکار بچے کے ساتھ موجود تھا جبکہ دوسری جانب بچے کی والدہ عدالت کے باہر بینچ پر بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔
بچے کی والدہ کے مطابق ان کا بیٹا تیسری جماعت کا طالب علم ہے اور ہمسایوں کے ساتھ تنازع کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ والدہ نے دعویٰ کیا کہ مقدمہ غلط بنیادوں پر بنایا گیا اور بتایا کہ بچے نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا، جس کے بعد وہ اسے دلیہ کھلا رہی تھیں۔
یہ واضح نہیں کہ مقدمے کی قانونی نوعیت کیا ہے اور تحقیقات کے نتائج کیا سامنے آئے ہیں، تاہم بچوں کو حراست میں لینے، تفتیش کرنے اور عدالت میں پیش کرنے کے معاملات میں خصوصی قانونی تحفظات اور ضابطوں کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔
## انسانی حقوق کا زاویہ
**ایچ آر این ڈبلیو** اس بات پر زور دیتا ہے کہ بچوں کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رویہ انسانی وقار، تحفظ اور بچوں کے بہترین مفاد کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کم سن بچوں کے معاملات میں گرفتاری، حراست اور ہتھکڑیوں کے استعمال جیسے اقدامات انتہائی احتیاط، قانونی تقاضوں اور بچوں کے حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی ادارے ایسے طریقہ کار اپنائیں جو بچوں کو مزید ذہنی دباؤ یا نقصان سے محفوظ رکھیں اور ہر معاملے میں شفاف تحقیقات اور قانونی عمل کو یقینی بنائیں۔
## انسانی حقوق کی صحافت کی حمایت کریں
**انسانی حقوق کی صحافت کے فروغ اور ہمارے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے ہمارا ساتھ دیں:**
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)
## دستبرداری (Disclaimer)
یہ خبر دستیاب معلومات، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو، متاثرہ خاندان کے مؤقف اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ایچ آر این ڈبلیو کسی فرد یا ادارے کو عدالتی فیصلے سے قبل قصوروار قرار نہیں دیتا بلکہ بچوں کے حقوق، قانون کی حکمرانی، منصفانہ کارروائی اور ذمہ دار صحافت کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔


