3

پاکستان بھر میں‌ریپ کیسز میں 238 فیصد اضافہ، سزا کی شرح پر صرف 3.65 فیصد

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** ملک بھر میں ریپ کے مقدمات میں تشویشناک اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چار سال کے دوران چاروں صوبوں میں ریپ کے مقدمات میں **238 فیصد اضافہ** ریکارڈ کیا گیا، جبکہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور ملزمان کو سزا دلوانے کی شرح انتہائی کم رہی۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران ریپ کے **42 ہزار سے زائد مقدمات** درج ہوئے، تاہم صرف **639 مقدمات میں سزا** سنائی گئی۔ پنجاب میں ریپ کے مقدمات میں سزا کی شرح **3.65 فیصد** رہی، جبکہ تقریباً **14 ہزار 955 مقدمات** تاحال عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں ہر پانچ میں سے تقریباً ایک مقدمہ عدالت تک پہنچنے سے قبل ہی منسوخ کردیا گیا۔ صوبے میں ریپ کے مقدمات کی تعداد میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 2021 کے دوران ریپ کے **15 مقدمات** درج ہوئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر **ایک ہزار 846** تک پہنچ گئی۔ حراسگی اور زیادتی سے متعلق **214 مقدمات** بھی درج کیے گئے، تاہم ان میں صرف ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی۔

پنجاب میں گینگ ریپ کے **29 ہزار 555 مقدمات** بھی رپورٹ ہوئے۔ ان مقدمات میں بھی سزا کی شرح انتہائی کم رہی، جبکہ اعدادوشمار کے مطابق ہر ایک سزا کے مقابلے میں **26 ملزمان بری** ہوئے۔ مزید برآں **5 ہزار 694 ملزمان** تاحال روپوش ہیں، جس سے متاثرین کے لیے انصاف کے حصول میں مزید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب سندھ میں ریپ سے متعلق مقدمات کی مجموعی تعداد **ایک ہزار 798** رہی۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں ملزمان کے روپوش ہونے کی تعداد ایک سال کے دوران تقریباً تین گنا بڑھی ہے۔

خیبرپختونخوا کے حوالے سے فراہم کردہ اعدادوشمار میں حراسگی اور زیادتی کا کوئی مقدمہ درج نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ بلوچستان میں ریپ کے بعد قتل کا کوئی مقدمہ رپورٹ نہیں ہوا، تاہم گینگ ریپ کے دو مقدمات سامنے آئے۔

اسلام آباد کے حوالے سے ریپ کیسز کے اعدادوشمار فراہم نہیں کیے گئے، جس کے باعث وفاقی دارالحکومت کی صورتحال کا دیگر صوبوں کے ساتھ مکمل تقابلی جائزہ ممکن نہیں ہوسکا۔

### انسانی حقوق کا پہلو

ریپ اور جنسی تشدد صرف فوجداری جرائم نہیں بلکہ **انسانی وقار، جسمانی سلامتی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی** ہیں۔ مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ سزا کی کم شرح، مقدمات کا زیرِ التوا رہنا اور ملزمان کا روپوش رہنا نظامِ انصاف کے لیے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔

متاثرین کو بروقت انصاف، محفوظ ماحول، مؤثر تفتیش، قانونی معاونت اور عدالتوں میں شفاف کارروائی کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جنسی جرائم کے مقدمات میں تاخیر نہ صرف متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے بلکہ معاشرے میں قانون کی عملداری پر اعتماد کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

### HRNW کی اپیل

**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (ایچ آراین ڈبلیو)** انسانی حقوق، خواتین اور بچوں کے تحفظ، انصاف اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے آزادانہ صحافتی کردار ادا کر رہا ہے۔ آپ کی معاونت ہمیں انسانی حقوق کی آواز مزید مؤثر انداز میں اٹھانے اور اہم عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں مدد دیتی ہے۔

**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[HRNW Support Page](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**ڈسکلیمر:** یہ خبر فراہم کردہ سرکاری اعدادوشمار اور رپورٹ میں بیان کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اعدادوشمار یا قانونی صورتحال میں مزید سرکاری وضاحت یا تبدیلی کی صورت میں خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں