**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امیگریشن کاؤنٹرز پر مسافروں کے لیے دستیاب سہولیات، امیگریشن کے عمل اور انتظار کے دورانیے کا جائزہ لیا۔
محسن نقوی نے مختلف مسافروں سے براہِ راست ملاقات کرکے امیگریشن کے طریقہ کار، انتظار کے وقت اور انہیں درپیش مشکلات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ امیگریشن نظام میں تکنیکی خرابی کی اطلاع پر وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کیا اور خرابی دور کرنے کی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ تکنیکی خرابی کی صورت میں متبادل نظام پہلے سے فعال ہونا چاہیے اور امیگریشن کا عمل کسی صورت تعطل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایئرپورٹس پر مسافروں کو غیر ضروری انتظار اور مشکلات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
محسن نقوی نے جعلی، نامکمل یا غیر تصدیق شدہ سفری دستاویزات پر سفر کرنے والے مسافروں کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے مسافروں کو سفر کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جبکہ دستاویزات کی جانچ پڑتال میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ نے **پاسپورٹ آفس عوامی مرکز کراچی** کا بھی دورہ کیا اور شہریوں کو پاسپورٹ کے حصول کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے شہریوں سے ملاقات کرکے پاسپورٹ بنوانے کے عمل، انتظار کے دورانیے اور دیگر سہولیات کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کیں۔
### انسانی حقوق کا پہلو
ایئرپورٹس اور پاسپورٹ دفاتر پر شہریوں کو بروقت، شفاف اور باعزت خدمات کی فراہمی بنیادی شہری حقوق سے جڑی ہوئی ہے۔ تکنیکی خرابی، غیر ضروری انتظار اور انتظامی رکاوٹوں سے مسافروں کو مشکلات سے بچانے کے لیے مؤثر متبادل نظام اور جوابدہی ضروری ہے۔
### HRNW کی اپیل
**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (ایچ آراین ڈبلیو)** انسانی حقوق، شہری مسائل اور عوامی مفاد کے معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے آزادانہ صحافتی کردار ادا کر رہا ہے۔ آپ کی معاونت ہمیں عوامی مسائل کی مؤثر نشاندہی اور انسانی حقوق پر مبنی صحافت جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[HRNW Support Page](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**ڈسکلیمر:** یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور متعلقہ حکام کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مزید پیش رفت یا سرکاری وضاحت کی صورت میں خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔


