5

گٹر میں گر کر جاں بحق 8 سالہ بچی، والدین کو ڈیڑھ کروڑ روپے معاوضہ دینے کا حکم

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سٹی کورٹ کراچی نے کیماڑی میں گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والی 8 سالہ بچی حبیبہ کے والدین کی جانب سے دائر معاوضے کے دعوے کا فیصلہ سنا دیا۔ سینئر سول جج غربی نے بچی کے والدین کو ڈیڑھ کروڑ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

وکیل فرخ عثمان ایڈووکیٹ کے مطابق واقعہ 2021 میں شیر محمد ولیج، ماڑی پور روڈ پر پیش آیا تھا۔ 8 سالہ حبیبہ گھر سے باہر کھیلنے گئی تھی، تاہم دو روز بعد اس کی لاش علاقے میں موجود گٹر سے ملی۔ وکیل کے مطابق گٹر کا ڈھکن غائب تھا، جس کے باعث بچی گٹر میں گر گئی۔

والدین کی جانب سے عدالت میں ڈھائی کروڑ روپے ہرجانے اور نقصان کے ازالے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا، جس میں واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور حکومت سندھ کو فریق بنایا گیا تھا۔

### انسانی حقوق کا پہلو

کھلے اور بغیر ڈھکن کے گٹر شہریوں، خصوصاً بچوں کی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ بنیادی شہری سہولیات، محفوظ ماحول اور انسانی جان کا تحفظ ریاستی و بلدیاتی اداروں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ عدالت کی جانب سے معاوضے کا حکم اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ شہری غفلت کے باعث کسی انسانی جان کا ضیاع معمول نہیں بننا چاہیے۔

### HRNW کی اپیل

**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (ایچ آراین ڈبلیو)** انسانی حقوق، شہری مسائل اور معاشرے کے کمزور طبقات کی آواز مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے آزادانہ صحافتی کردار ادا کر رہا ہے۔ آپ کی مالی معاونت ہمیں مزید تحقیقاتی اور انسانی حقوق پر مبنی صحافت جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[HRNW Support Page](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**ڈسکلیمر:** یہ خبر دستیاب عدالتی کارروائی اور وکیل کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فریقین کے مؤقف یا قانونی صورتحال میں مزید پیش رفت کی صورت میں خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں