16

میر رضا کیس: قانون کی بالادستی کے لئے مظاہرہ کرنے والوں‌ پر مقدمہ شرمناک: جبران ناصر

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے بعد وکیل **جبران ناصر** نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیروز آباد پولیس کی جانب سے میر رضا کے لیے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ گزشتہ **29 دنوں سے نوجوان میر رضا کو انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے گھنٹوں سڑکوں پر کھڑے ہو رہے ہیں،** لیکن ان ہی نوجوانوں کو مقدمات کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا کے والدین کے لیے یہ نوجوان بھی میر رضا ہی کی طرح ہیں اور وہ ان نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جبران ناصر نے ان نوجوان وکلا کو خراجِ تحسین پیش کیا جو احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی ضمانت کے لیے قانونی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ میر رضا کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے کا احتجاج جاری رہے گا۔

### 30 روز بعد بھی ملزمان گرفتار نہ ہوسکے

جبران ناصر نے کہا کہ **30 دن گزر جانے کے باوجود میر رضا کیس کے ملزمان کا تعاقب نہیں کیا جا سکا۔** ان کے مطابق اصل توجہ قاتلوں کی گرفتاری اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے پر ہونی چاہیے۔

### جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اوپن رکھنے کا فیصلہ

جبران ناصر نے بتایا کہ جسٹس عمر سیال نے واضح کیا ہے کہ **جوڈیشل کمیشن کی کارروائی عوام کے لیے اوپن رکھی گئی ہے** تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ اس کا کام براہِ راست **انویسٹیگیشن کرنا نہیں بلکہ فیکٹ فائنڈنگ** ہے۔

جبران ناصر کے مطابق کمیشن نے واضح کیا ہے کہ **قاتلوں کو گرفتار کرنا اور چالان عدالت میں جمع کرانا پولیس کی ذمہ داری ہے۔**

### انسانی حقوق کا پہلو

میر رضا کیس میں انصاف کا مطالبہ کرنے والے شہریوں کے خلاف مقدمات اور اصل ملزمان کی گرفتاری میں تاخیر نے شہری آزادیوں، پُرامن احتجاج اور قانون کی بالادستی سے متعلق سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔ شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی متاثرہ خاندان اور عوام کے اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

### ڈسکلیمر

یہ خبر جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے بعد وکیل جبران ناصر کی میڈیا سے گفتگو کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ بیان میں عائد کیے گئے الزامات متعلقہ فریق کا مؤقف ہیں، جن کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ اداروں اور عدالتوں کی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں