**چکوال (ایچ آراین ڈبلیو):** دم کروانے کے لیے پیر کے ڈیرے پر آنے والی **12 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے** کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ بچی کے اہل خانہ نے پیر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے **تھانہ لاوہ** میں مقدمہ درج کرا دیا۔
اہل خانہ کے مطابق بچی اپنے بھائی کے ہمراہ دم کروانے کے لیے پیر کے ڈیرے پر گئی تھی۔ متاثرہ بچی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں الزام عائد کیا کہ پیر نے اسے مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنایا اور واقعے کے بارے میں کسی کو بتانے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
پولیس کے مطابق بچی کو اس کا بھائی دم کروانے کے لیے ڈیرے پر لے کر آیا تھا۔ مبینہ طور پر پیر نے بتایا کہ دم شام کے وقت کیا جائے گا، تاہم شام گزرنے کے بعد رات ہوگئی۔ کھانے کے بعد بچی کو الگ کمرے میں سونے کے لیے بھیج دیا گیا۔
پولیس کے مطابق کچھ دیر بعد پیر مبینہ طور پر بچی کے کمرے میں داخل ہوا اور اسے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ بچی نے بعد ازاں واقعے سے اپنے اہل خانہ کو آگاہ کیا، جس کے بعد اہل خانہ اسے لے کر پولیس کے پاس پہنچے اور قانونی کارروائی کی درخواست کی۔
پولیس نے متاثرہ بچی کے اہل خانہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ **واقعے کی مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔**
### انسانی حقوق کا پہلو
بچوں کو جنسی تشدد اور استحصال سے تحفظ دینا ریاست اور معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایسے الزامات میں متاثرہ بچے کی **شناخت اور رازداری کا تحفظ، فوری طبی و نفسیاتی معاونت، شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی** انتہائی ضروری ہے۔
### ڈسکلیمر
یہ خبر پولیس اور متاثرہ بچی کے اہل خانہ کی جانب سے بیان کردہ الزامات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعے کے الزامات کی حتمی تصدیق عدالتی کارروائی کے بعد ہوگی۔ نابالغ متاثرہ بچی کی شناخت ظاہر نہ کرنا اس کی رازداری اور تحفظ کے لیے ضروری ہے۔


