5

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا تحریری حکم نامہ جاری، اہم گواہوں اور متعلقہ اہلکاروں کو نوٹس

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے گزشتہ روز کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس میں عوام سے معلومات کے حصول، اہم دستاویزات اور شواہد طلب کرنے سمیت متعدد اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

کمیشن کے مطابق **ڈان، جنگ اور کاوش** اخبارات میں اشتہار شائع کیا جائے گا تاکہ کیس سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد کمیشن سے رابطہ کرسکیں۔ معلومات فراہم کرنے والے شخص کی شناخت **راز میں رکھی جائے گی**۔

کمیشن نے قرار دیا کہ سندھ ہائیکورٹ کے آئی ٹی شعبے کی جانب سے فراہم کردہ **واٹس ایپ نمبر اور ای میل ایڈریس** بھی اشتہار میں شائع کیے جائیں گے۔ کیس کے لیے اہم ثابت ہونے والی معلومات فراہم کرنے والے شخص کو **ایک لاکھ روپے انعام** دیا جائے گا۔

کمیشن نے یہ بھی ہدایت کی کہ جائے وقوعہ کے قریب بھی معلومات سے متعلق نوٹس چسپاں کیے جائیں۔ کمیشن کے مطابق خاندان کی مدد کرنے والے رضاکار یہ نوٹس چسپاں کرنے میں معاونت کریں گے۔

### پولیس اور میڈیکل ریکارڈ طلب

جوڈیشل کمیشن نے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ میر رضا کیس سے منسلک تمام **پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست** فراہم کی جائے۔

کمیشن نے مقدمے کی کاپی، تمام میمو، گواہان کے بیانات، میڈیکل رپورٹس اور دیگر اہم دستاویزات طلب کرلی ہیں۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دستاویزات کی ٹائپ شدہ نقول کے ساتھ اصل تحریری رپورٹس بھی فراہم کی جائیں۔

کمیشن کے مطابق **ڈیجیٹل شواہد پیش کرنے کے لیے ضروری آلات** رجسٹرار کی جانب سے کمیشن روم میں پہلے ہی دستیاب کردیے گئے ہیں۔

### اہم گواہوں اور اہلکاروں کو نوٹس

کمیشن نے آئندہ سماعت کے لیے نرسری کے ملازمین **یاسر اور قیصر** کو نوٹس جاری کیے ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر سب سے پہلے میر رضا کی لاش دیکھی تھی۔

اس کے علاوہ ان **دو پولیس اہلکاروں** کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے لاش دیکھی تھی۔

کمیشن نے **گلستانِ جوہر پولیس موبائل یونٹ** کو بھی نوٹس جاری کیا ہے، جہاں واقعے سے متعلق ابتدائی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

اسی طرح **ایدھی فاؤنڈیشن کے ان ڈرائیورز** کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں جنہوں نے میر رضا کی لاش جناح اسپتال منتقل کی تھی۔

کمیشن نے پولیس اہلکار **ندیم** کو بھی طلب کیا ہے جو لاش اسپتال پہنچائے جانے کے وقت وہاں موجود تھا، جبکہ سابق میڈیکو لیگل آفیسر **اسامہ شیخ** کو بھی آئندہ کارروائی کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

### آئندہ سماعت یکم ستمبر کو

جوڈیشل کمیشن نے کیس کی آئندہ سماعت **یکم ستمبر کو صبح 11 بجے** مقرر کردی ہے۔

### انسانی حقوق کا پہلو

میر رضا قتل کیس میں شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، شواہد کا تحفظ، ذمہ دار افراد کا تعین اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی بنیادی انسانی حقوق اور **قانون کی حکمرانی** سے براہِ راست جڑے معاملات ہیں۔

عوام سے معلومات طلب کرنے اور مخبر کی شناخت خفیہ رکھنے کا فیصلہ ممکنہ طور پر اہم شواہد سامنے لانے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم تمام معلومات اور الزامات کی تصدیق قانونی طریقۂ کار اور قابلِ قبول شواہد کی بنیاد پر ہونا ضروری ہے، جبکہ متاثرہ خاندان اور تمام متعلقہ افراد کو منصفانہ قانونی عمل کی ضمانت ملنی چاہیے۔

### انسانی حقوق سپورٹ اپیل

**ایچ آراین ڈبلیو (HRNW)** انسانی حقوق، انصاف، شفافیت، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں سے متعلق اہم معاملات کو عوام تک پہنچانے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انسانی حقوق کی آواز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہماری سرگرمیوں کی حمایت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ڈسکلیمر

یہ خبر جوڈیشل کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تحریری حکم نامے میں درج ہدایات اور معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ کیس سے متعلق تمام الزامات، شواہد اور بیانات قانونی جانچ کے تابع ہیں۔ حتمی حقائق اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقاتی و عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں