**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ ہائیکورٹ نے دہلی گورنمنٹ اسکول کی ملکیت کے تنازع سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے **سرکاری اسکول کا قبضہ واگزار کرا کے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے کا حکم** دے دیا۔
عدالت نے اسکول کا قبضہ واگزار کرانے سے متعلق درخواست منظور کرلی۔
درخواست گزار کے وکیل **بیرسٹر اسد احمد** نے عدالت کو بتایا کہ سال **2000 میں عدالت نے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حق میں ڈگری جاری کی تھی**، تاہم عدالتی حکم کے باوجود گزشتہ تقریباً 25 برس سے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اسکول میں زیرِ تعلیم طلبہ کو دوسرے اسکول منتقل کرنے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے مزید مہلت دی جائے۔
اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے وکیل نے مزید مہلت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ **2007 میں بھی اسکول پر دوبارہ قبضہ کیا گیا تھا**، اس لیے مزید وقت دینے سے معاملہ مزید طول پکڑ سکتا ہے۔
بیرسٹر اسد احمد نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ نے **2009 میں طلبہ کو 15 دن کے اندر دوسرے اسکول منتقل کرنے کا حکم** بھی دیا تھا، تاہم اس کے باوجود عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
وکیل اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے عدالت میں کہا کہ **عدالت کے فیصلے پر عمل نہ ہونا افسوسناک ہے۔**
عدالت نے دلائل سننے کے بعد اسکول کا قبضہ واگزار کرا کے **اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے** کا حکم دیتے ہوئے درخواست منظور کرلی۔
### انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا پہلو
عدالتی فیصلوں پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد **قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی قانونی حقوق** کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اسکول کے قبضے کی منتقلی کے عمل میں زیرِ تعلیم طلبہ کے تعلیمی تسلسل اور ان کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔
### ڈسکلیمر
یہ خبر سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی عدالتی کارروائی اور فریقین کے وکلا کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اسکول کی ملکیت اور قبضے سے متعلق حتمی قانونی حیثیت عدالت کے احکامات اور متعلقہ ریکارڈ کے مطابق ہوگی۔


