**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** کراچی کے تاریخی علاقے **ہَرچند رائے وشنداس کوارٹرز، نشتر روڈ** میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گیا۔
ذرائع اور علاقہ مکینوں کے مطابق **علانہ مسجد والی گلی** میں موجود ہیرٹیج عمارتوں اور تاریخی تعمیرات کو مبینہ طور پر نقصان پہنچا کر ان کی جگہ غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق گلی میں واقع **ہیرٹیج پلاٹ نمبر 56 اور 80** پر مبینہ طور پر ایسی تعمیرات کی جا رہی ہیں جو تاریخی عمارتوں کے اصل کردار اور ہیرٹیج قوانین کی روح سے متصادم ہیں۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف متعلقہ حکام کو متعدد مرتبہ شکایات بھی درج کرائیں، تاہم شکایات کے باوجود تعمیراتی سرگرمیاں رکنے کے بجائے مبینہ طور پر مزید تیز ہوگئی ہیں۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ہیرٹیج اور بلدیاتی ادارے معاملے کا **فوری نوٹس لیتے ہوئے موقع کا معائنہ** کریں، دونوں پلاٹس کا ریکارڈ، منظور شدہ نقشے اور تعمیرات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے۔
مقامی شہریوں کے مطابق اگر تعمیرات ہیرٹیج قوانین یا منظور شدہ منصوبے کے برخلاف پائی جائیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
### انسانی حقوق اور ثقافتی ورثے کا پہلو
تاریخی عمارتیں اور ثقافتی ورثہ کسی بھی شہر کی اجتماعی شناخت اور تاریخ کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ ان کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہ صرف قانونی ذمہ داری ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے تاریخی اور ثقافتی حق کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔
**HRNW** متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ شہریوں کی شکایات کا شفاف انداز میں جائزہ لے کر تاریخی ورثے کو ممکنہ نقصان سے محفوظ بنایا جائے۔
### ڈسکلیمر
یہ رپورٹ علاقہ مکینوں اور ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والے دعووں اور شکایات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مبینہ غیر قانونی تعمیرات سے متعلق حتمی صورتحال کا تعین متعلقہ سرکاری اداروں کے ریکارڈ، معائنے اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔


