**اسلام آباد/لاہور/راولپنڈی/دیگر اضلاع (ایچ آراین ڈبلیو):** گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران میڈیا میں رپورٹ ہونے والے بچوں کے خلاف **جنسی تشدد، اغوا اور قتل کے متعدد سنگین واقعات** نے معاشرے میں بچوں کے تحفظ اور ریاستی ذمہ داریوں کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کردی ہے۔
دستیاب خبروں اور پولیس کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق مختلف علاقوں میں درج ذیل واقعات سامنے آئے ہیں:
**1۔ سرگودھا — 27 اگست:**
دو افراد پر دو نابالغ بہن بھائیوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کرنے اور ان کی ویڈیوز ریکارڈ کرکے مبینہ طور پر ڈارک ویب پر اپ لوڈ کرنے کا الزام سامنے آیا۔ بچوں کا طبی معائنہ کرایا جا چکا ہے جبکہ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
**2۔ راولپنڈی — 28 اگست، رپورٹ 29 اگست:**
ویسٹریج/سلیمان آباد کے علاقے میں **12 سالہ بچی کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی** کا واقعہ رپورٹ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق بچی رات کے وقت لکڑیاں لینے گئی تھی۔ مقامی افراد نے مبینہ ملزم کو پکڑنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا، تاہم وہ فرار ہوگیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔
**3۔ گجرات — 27 اگست کو گمشدگی، رپورٹ 29 اگست:**
**4 سالہ نور فاطمہ** مبینہ طور پر اغوا کے بعد جنسی زیادتی اور قتل کا نشانہ بن گئی۔ پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث مبینہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
**4۔ لاہور — 28 اگست:**
**8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش** کا واقعہ سامنے آیا۔ پولیس نے پڑوسی کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔
**5۔ ہری پور — آٹوپسی رپورٹ 27 اگست:**
**5 سالہ آیت نور**، جو 10 اگست کو لاپتہ ہوئی تھی اور 24 اگست کو اس کی لاش برآمد ہوئی، کی حالیہ آٹوپسی رپورٹ میں مبینہ جنسی زیادتی کی تصدیق سامنے آئی ہے۔ واقعہ اگرچہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے قبل پیش آیا، تاہم اس حوالے سے اہم طبی شواہد حالیہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔
**6۔ کلرسیداں — 28 اگست:**
ایک مدرسے میں **9 سالہ بچے کو مبینہ طور پر شدید تشدد، جنسی زیادتی اور قتل** کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ واقعے کے حوالے سے مزید قانونی اور تفتیشی کارروائی جاری ہے۔
### یہ محض خبریں نہیں، ایک اجتماعی المیہ ہے
بچوں کے خلاف جنسی تشدد، اغوا اور قتل کے مسلسل سامنے آنے والے واقعات معاشرے میں **بچوں کے تحفظ کے نظام، قانون کے نفاذ، نگرانی کے مؤثر طریقہ کار اور انصاف کی فراہمی** پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کی شکایات پر فوری کارروائی، شفاف تحقیقات، متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو قانونی و نفسیاتی معاونت اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔
ساتھ ہی، ایسے مقدمات میں متاثرہ بچوں کی شناخت اور نجی معلومات کو محفوظ رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
### انسانی حقوق سپورٹ اپیل
**(ایچ آراین ڈبلیو)** انسانی حقوق، بچوں کے تحفظ، انصاف، قانون کی حکمرانی اور کمزور طبقات کی آواز عوام تک پہنچانے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انسانی حقوق کی آواز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہماری سرگرمیوں کی حمایت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ رپورٹ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس اور دستیاب ابتدائی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مختلف واقعات میں عائد الزامات کی حتمی تصدیق متعلقہ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگی۔ نابالغ متاثرین کی شناخت جان بوجھ کر ظاہر نہیں کی گئی تاکہ ان کی رازداری اور تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔


