**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی **سجاد علی سومرو** نے پمز اسپتال اسلام آباد میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں 14 کے بجائے **40 سے زائد بچوں کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ** کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت **سید مصطفیٰ کمال** سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
سجاد علی سومرو نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اپنی رپورٹ بھی مبینہ طور پر 40 سے زائد بچوں کی ہلاکت کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے واقعے کو افسوسناک اور دل دہلا دینے والا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک کے بعد دوسرا آتشزدگی کا سانحہ پیش آتا ہے، لیکن تحقیقاتی کمیٹیوں کی رپورٹس عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں بلکہ انہیں چھپا دیا جاتا ہے۔ ان کے بقول صرف ایک سیکریٹری کو عہدے سے ہٹا کر اصل ذمہ داروں کو تحفظ فراہم کرنا انصاف نہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے مطالبہ کیا کہ سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
### سندھ میں نئے صوبوں سے متعلق مؤقف
سجاد علی سومرو نے سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے اندر صوبے بنانا سندھ کے عوام کا حق ہے۔
انہوں نے موجودہ وفاقی حکومت کو **”فارم 47 کی حکومت”** قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ایسی حکومت سندھ کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے بارے میں فیصلہ عوام کی مرضی اور ان کی منتخب حقیقی حکومت کے ذریعے ہونا چاہیے۔
سجاد علی سومرو نے کہا کہ عوام کی مرضی کے بغیر سندھ کے مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
### انسانی حقوق کا پہلو
پمز اسپتال سانحے میں بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق مختلف اعداد و شمار سامنے آنے کی صورت میں **شفاف تحقیقات، متاثرہ خاندانوں کو درست معلومات کی فراہمی اور ذمہ داران کا تعین** بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ عوام کو سرکاری تحقیقات اور ہلاکتوں کی حتمی تعداد سے متعلق واضح اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
### ڈسکلیمر
یہ خبر پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی سجاد علی سومرو کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ 40 سے زائد بچوں کی ہلاکت اور وفاقی حکومت کی رپورٹ سے متعلق دعوے متعلقہ فریق کا مؤقف ہیں۔ حتمی اعداد و شمار اور ذمہ داری کا تعین سرکاری تحقیقات اور مستند ریکارڈ کی بنیاد پر ہوگا۔


