29

پنجاب میں مسیحی شخصی قوانین میں اصلاحات، شادیوں کی آن لائن رجسٹریشن کا فیصلہ

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** — پنجاب میں مسیحی برادری کے شخصی قوانین میں اصلاحات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں مسیحی شادی ترمیمی ایکٹ اسمبلی میں پیش کرنے پر اتفاقِ رائے کیا گیا۔

اجلاس صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی زیر صدارت ہوا، جس میں مسیحی پرسنل لاز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، ذیلی کمیٹی کی جانب سے تجویز کردہ ترامیم اور متعلقہ قانونی امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مسیحی شادیوں کی **آن لائن رجسٹریشن کا نظام متعارف کرانے** کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد شادیوں کے ریکارڈ میں ممکنہ بے ضابطگیوں کا خاتمہ، شفافیت میں اضافہ اور ریکارڈ کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے۔

محکمہ متعلقہ حکام کی جانب سے اجلاس کو بریفنگ دی گئی، جبکہ ڈاکٹر نول کھوکھر نے بھی پریزنٹیشن پیش کی۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی، مختلف سرکاری محکموں کے نمائندگان، قانونی ماہرین اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔

اجلاس میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے لیے **مذہبی تعلیم اور امتحانی سہولیات** فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے تصدیق شدہ اساتذہ کی نامزدگی، مذہبی تعلیم، امتحانی سہولیات اور اساتذہ کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں مسیحی برادری کے شخصی قوانین میں اصلاحات کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسیحی برادری کے حقوق کا تحفظ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا عزم ہے اور مسیحی پرسنل لاز میں اصلاحات حکومت کے اقلیت دوست وژن کا حصہ ہیں۔

رمیش سنگھ اروڑہ کے مطابق پنجاب حکومت مسیحی برادری کو مؤثر قانونی تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ مسیحی شادی کے قانون میں اصلاحات کے لیے اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی متفقہ لائحہ عمل تیار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسیحی شادی ترمیمی ایکٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے پر کمیٹی کا اتفاقِ رائے خوش آئند ہے۔ ان کے مطابق شادیوں کی آن لائن رجسٹریشن سے شفافیت میں اضافہ اور ریکارڈ کا تحفظ یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مسیحی خاندانوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے جدید اور شفاف نظام وضع کیا جا رہا ہے اور پنجاب میں مسیحی شخصی قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا عمل جاری ہے۔

ان کے مطابق قانون سازی کے عمل میں مذہبی، قانونی اور تعلیمی ماہرین کی رائے شامل کی جا رہی ہے جبکہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔

## Human Angle

مسیحی شخصی قوانین میں شفاف اور مؤثر اصلاحات اقلیتی شہریوں کے **خاندانی، مذہبی اور قانونی حقوق** کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ شادیوں کی بہتر رجسٹریشن، درست سرکاری ریکارڈ اور قیدیوں کو مذہبی تعلیم کی سہولت دینا مساوی شہری حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی وقار کے اصولوں سے براہِ راست جڑے اقدامات ہیں۔ تاہم قانون سازی کے عمل میں متعلقہ برادری اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مؤثر شمولیت بھی اہم ہوگی۔

## HRNW Support Appeal

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے آزادانہ اور عوامی مفاد کی صحافت کے ذریعے آگاہی پھیلانے کے مشن پر کاربند ہے۔

HRNW کے اس نیک مشن کی حمایت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**Disclaimer:** یہ خبر فراہم کردہ سرکاری معلومات اور بیان کردہ مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قانون سازی کی حتمی منظوری اور اس کی عملی شکل متعلقہ آئینی و قانونی مراحل کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔ HRNW کسی غیر مصدقہ دعوے یا بیان کی آزادانہ تصدیق کے بغیر اسے حتمی حقیقت قرار نہیں دیتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں