اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)فیڈرل آئینی عدالتِ پاکستان نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی متنازعہ دفعہ 7E سے متعلق ایک نہایت اہم اور دور رس قانونی فیصلہ سناتے ہوئے اس شق کو آئینِ پاکستان کے خلاف قرار دے کر مکمل طور پر کالعدم کر دیا ہے۔
عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ دفعہ 7E کی بنیاد ہی ابتدا سے غلط تھی، اس لیے اس کا قانونی وجود شروع دن سے ہی غیر مؤثر اور غیر آئینی تھا۔
مقدمے کا پس منظر یہ ہے کہ فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے دفعہ 7E کو ٹیکس قوانین کا حصہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں اس کے خلاف آئینی درخواستیں دائر کی گئیں۔ اس معاملے پر مختلف ہائی کورٹس نے متضاد فیصلے دیے۔ پشاور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے دفعہ 7E کو غیر آئینی قرار دیا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جزوی طور پر اسے کالعدم کیا۔ اس کے برعکس لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے بعض درخواستیں مسترد کر دی تھیں، جس سے قانونی ابہام پیدا ہو گیا تھا۔
بعد ازاں یہ تمام مقدمات یکجا ہو کر فیڈرل آئینی عدالت کے سامنے سماعت کے لیے پیش ہوئے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ دیا کہ دفعہ 7E آئین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں بنتی، اس لیے اسے مکمل طور پر ختم کیا جاتا ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ دفعہ 7E کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو یا دیگر ٹیکس حکام کی جانب سے جاری کیے گئے تمام نوٹسز، کارروائیاں اور ٹیکس وصولیاں غیر قانونی ہیں اور ان کی کوئی آئینی حیثیت باقی نہیں رہی۔
اس فیصلے کے عملی اثرات کے تحت اب دفعہ 7E کے تحت نہ کوئی نئی ٹیکس وصولی کی جا سکے گی اور نہ ہی کسی قسم کی قانونی کارروائی جاری رکھی جا سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کے آئینی حقوق کے تحفظ کی ایک اہم مثال ہے اور اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ ریاستی ادارے صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ٹیکس نافذ کر سکتے ہیں۔
30


