**سرینگر (HRNW)** بھارت کے قومی جرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم اور مظالم کی سنگین صورتحال بدستور برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2024ء کے دوران مقبوضہ وادی میں بچوں کے خلاف جرائم کے مجموعی طور پر 887 واقعات باقاعدہ طور پر درج کیے گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے تقابل میں ان جرائم کی شرح میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ سال 2022ء میں بچوں کے خلاف جرائم کے 920 مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ سال 2023ء میں یہ تعداد 910 ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم، حریت رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مخدوش حالات اور خوف کے ماحول کے باعث اصل واقعات کی تعداد رپورٹ کردہ مقدمات سے کہیں زیادہ ہے۔
این سی آر بی کی رپورٹ کے اہم ترین انکشافات درج ذیل ہیں:
### اغوا کاری کے سب سے زیادہ کیسز اور عدالتی نظام کی ناکامی
* **اغوا کے وارداتیں سب سے نمایاں:** رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں معصوم بچوں کے خلاف اغوا اور زبردستی اٹھا لے جانے (Abduction & Kidnapping) کے جرائم سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے۔ سال 2024ء کے دوران صرف اغوا کاری کے 243 مقدمات مختلف تھانوں میں درج کیے گئے۔
* **سزاؤں کی انتہائی کم شرح:** مقبوضہ وادی میں بچوں کو انصاف کی فراہمی کا عدالتی نظام شدید ناکامی کا شکار نظر آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024ء میں طویل عدالتی کارروائی کے باوجود محض 12 مقدمات میں ملزمان کو سزائیں سنائی جا سکیں۔
* **ملزمان کی بڑے پیمانے پر بریت:** جہاں صرف 12 کیسز میں سزائیں ہوئیں، وہیں دوسری طرف 112 معاملات میں ملزمان کو عدالتوں سے بری (Acquitted) کر دیا گیا، جبکہ 4 مقدمات کو مکمل طور پر خارج کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ 16 مقدمات کو کسی بھی قسم کے ٹرائل اور قانونی کارروائی کے بغیر ہی یکطرفہ طور پر نمٹا دیا گیا۔
کشمیر کے مقامی ماہرینِ قانون اور سماجی کارکنوں نے اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزاؤں کی یہ مایوس کن شرح اور ملزمان کی اتنے بڑے پیمانے پر بریت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بچوں کو مجرمانہ عناصر سے بچانے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی مؤثر قانونی نظام موجود نہیں ہے، جس کے باعث مجرموں کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!**
دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس پورٹل **HRNW** کی مدد کریں۔ مظلوموں کی آواز بننے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس لنک پر کلک کر کے ہمیں سپورٹ کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


