**تہران — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے لبنان کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ان افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو بڑی طاقتوں سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ لبنان کی موجودہ صورتحال نے ان لوگوں کو مشکلات اور ذلت سے دوچار کیا ہے جو بالادست طاقتوں کے وعدوں پر اپنی امیدیں قائم کرتے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے مختصر بیان میں کسی مخصوص ملک یا حکومت کا نام واضح طور پر نہیں لیا، تاہم ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان خطے میں جاری وسیع تر کشیدگی اور حزب اللہ و اسرائیلی افواج کے درمیان تنازع سے متاثر ہے۔
لبنان کی صورتحال ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری وسیع تر علاقائی کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ ایران ماضی میں حزب اللہ کی حمایت کو اپنی علاقائی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتا رہا ہے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس سے قبل بھی لبنان کی علاقائی سالمیت اور اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کو کسی ممکنہ امن معاہدے سے متعلق اہم شرائط میں شامل قرار دیا تھا۔
حالیہ دنوں میں مجتبیٰ خامنہ ای نے خطے میں امریکی موجودگی اور ایران کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے بھی سخت بیانات دیے ہیں۔ ان کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور سفارتی رابطوں کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
لبنان اور خطے کے دیگر علاقوں میں جاری کشیدگی کے باعث شہری آبادی کے تحفظ، انسانی جانوں کے ضیاع کی روک تھام اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کسی بھی سیاسی یا عسکری تنازع میں شہریوں کو نقصان سے بچانا اور بین الاقوامی انسانی حقوق و انسانی قانون کے تقاضوں کی پاسداری ضروری ہے۔
امن کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں بھی شہریوں کے تحفظ، علاقائی استحکام اور پائیدار سیاسی حل کو ترجیح دینا اہم ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ان کے سیاسی مؤقف اور کسی بھی فریق سے متعلق دعووں کو خبر میں اسی نسبت سے بیان کیا گیا ہے۔ لبنان کی صورتحال سے متعلق مختلف فریقین کے مؤقف اور زمینی حالات الگ الگ ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔


