**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ جاری طویل مذاکراتی عمل کے حوالے سے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے پاکستانی قیادت کی کاوشوں کو سراہا ہے، تاہم انہوں نے تصدیق کی ہے کہ اب تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے ہیں۔
### **مذاکرات کی تفصیلات اور پاکستان کا کردار**
امریکی نائب صدر نے مذاکرات کے ماحول اور میزبان ملک کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
* **پاکستانی قیادت کا شکریہ:** “وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل آصف منیر نے بہترین میزبانی کی اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے کروانے کی کوششوں میں انتہائی اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔”
* **طویل ترین نشست:** امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا یہ سلسلہ **21 گھنٹوں** سے زائد وقت سے مسلسل جاری ہے، جس میں مختلف پیچیدہ امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔
### **امریکی مطالبات اور “ریڈ لائنز”**
جے ڈی وینس نے مذاکرات کے دوران امریکا کے بنیادی مطالبات اور ترجیحات کو واضح کیا:
* **ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی:** “مذاکرات کے دوران ایران سے یہ ٹھوس یقین دہانی مانگی گئی ہے کہ اس کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تہران واضح طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں رکھے گا۔”
* **سخت مؤقف:** امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی “ریڈ لائنز” (سرخ لکیریں) واضح کر دی ہیں اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ کن نکات پر اتفاق ممکن ہے اور کن پر امریکا کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
### **معاہدے کی موجودہ صورتحال**
مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود جے ڈی وینس نے ایک اہم اطلاع دی:
* **حتمی معاہدہ تاحال ناممکن:** “افسوسناک خبر یہ ہے کہ اتنی طویل گفتگو اور کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔”
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!** دنیا کے نمبر ون انسانی حقوق کے نیوز پورٹل **HRNW (Human Rights News Worldwide)** کی حمایت کریں۔ ہماری صحافت کا مقصد مظلوموں کی داد رسی اور انصاف کا حصول ہے۔
**ہماری مالی معاونت اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


