**ننکانہ صاحب (ایچ آراین ڈبلیو):** گورودوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں بیساکھی کے تہوار کی تین روزہ رنگا رنگ تقریبات مکمل ہو گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی حکام کی زیرِ نگرانی بھارتی اور مقامی سکھ یاتریوں کو ان کی اگلی منزل کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔
### **یاتریوں کا سفر اور اگلا پڑاؤ**
* **سخت سکیورٹی:** انتظامیہ کے مطابق، سکھ یاتریوں کو خصوصی کوچز کے ذریعے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سخت حصار میں ننکانہ صاحب سے روانہ کیا گیا۔
* **سچا سودا آمد:** یاتریوں کا پہلا پڑاؤ گورودوارہ سچا سودا، فاروق آباد میں ہوگا۔
* **مرکزی تقریب:** فاروق آباد سے یاتری گورودوارہ پنجا صاحب (حسن ابدال) جائیں گے، جہاں **14 اپریل** کو بیساکھی کی سب سے بڑی اور مرکزی تقریب منعقد ہوگی۔
### **بھارتی یاتریوں کی شرکت اور جذبات**
* **بھارتی وفد:** اس سال بیساکھی میلے میں شرکت کے لیے **2,238** بھارتی سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے ہیں۔
* **پرتپاک استقبال:** ننکانہ صاحب پہنچنے پر یاتریوں کا شاندار استقبال کیا گیا اور انہیں تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئیں۔
* **تاثرات:** میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سکھ یاتریوں نے کہا کہ “ہمیں حکومتِ پاکستان اور یہاں کے عوام کی جانب سے جو پیار اور عزت ملی ہے، وہ ہمیشہ یاد رہے گی۔”
### **سکیورٹی انتظامات**
ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے یاتریوں کی آمد، قیام اور روانگی کے دوران **فول پروف سکیورٹی** کے انتظامات کیے گئے تھے۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور بھاری نفری کے ذریعے تمام راستوں اور گورودواروں کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ یاتری سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔
—
**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!** دنیا کے نمبر ون انسانی حقوق کے نیوز پورٹل **HRNW (Human Rights News Worldwide)** کی حمایت کریں۔ ہماری صحافت کا مقصد مظلوموں کی داد رسی اور انصاف کا حصول ہے۔
**ہماری مالی معاونت اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


