برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کی رضاکارانہ واپسی اسکیم؛ ایک ماہ گزرنے کے باوجود نتائج تاحال سامنے نہ آسکے

لندن (ایچ آر این ڈبلیو)- برطانیہ میں مقیم پناہ کے متلاشی افراد کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے عوض 40 ہزار پاؤنڈ کی پیشکش سے متعلق برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کی اسکیم کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے، تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے اب تک کوئی واضح نتائج یا اعداد و شمار سامنے نہیں لائے جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق، برطانوی وزیر داخلہ نے یہ غیر معمولی آفر اس مقصد کے لیے کی تھی کہ پناہ گزینوں کو قانونی کارروائیوں اور طویل قیام کے بجائے مالی ترغیب دے کر ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا سکے، جس سے سرکاری خزانے پر پناہ گزینوں کے قیام کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت ملک چھوڑنے والوں کو خطیر رقم کی پیشکش کی گئی تھی، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے تھے۔

ایک ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ہوم آفس کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ کتنے افراد نے اس آفر سے فائدہ اٹھایا یا یہ منصوبہ کتنا مؤثر ثابت ہوا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نتائج کی عدم موجودگی اس پالیسی کی کامیابی پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہے، جبکہ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس مہنگی اسکیم کی کارکردگی سے متعلق عوام کو آگاہ کرے۔

انسانی حقوق اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے ہمارے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کے تعاون سے ہم مظلوموں کی آواز بن سکتے ہیں۔ براہ کرم اس لنک کے ذریعے اپنی عطیات جمع کروائیں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں