نارووال (ایچ آر این ڈبلیو) کرتارپور راہداری میں تین روزہ سالانہ بیساکھی میلہ 15 اپریل سے شروع ہونے جا رہا ہے، جس میں شرکت کے لیے بھارت سے تقریباً 2,800 سکھ یاتریوں کی آمد متوقع ہے۔ دربار صاحب کرتارپور کی انتظامیہ کے مطابق، یہ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہوں گے اور 15 اپریل کو کرتارپور پہنچ کر تین روز تک قیام کریں گے، جہاں وہ اپنی مذہبی رسومات ادا کریں گے۔
انتظامیہ نے یاتریوں کی سہولت کے لیے سیکیورٹی، رہائش، لنگر اور ٹرانسپورٹ سمیت تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ یاتریوں کو پُرسکون اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ دربار انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کی جانب سے کرتارپور راہداری تاحال بند ہے، تاہم بیساکھی کے تہوار کے پیشِ نظر خصوصی انتظامات کے تحت یاتریوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ سکھ برادری کے لیے بیساکھی کا تہوار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں یاتری پاکستان میں موجود اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ گزشتہ سال بھی تقریباً 3,000 سکھ یاتریوں نے پاکستان پہنچ کر بیساکھی کی تقریبات میں شرکت کی تھی۔
انسانی حقوق اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے ہمارے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کے تعاون سے ہم مظلوموں کی آواز بن سکتے ہیں۔ براہ کرم اس لنک کے ذریعے اپنی عطیات جمع کروائیں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


