وفاقی دارالحکومت کے 90 فیصد سے زائد فوڈ پوائنٹس غیر معیاری ہونے کا انکشاف

اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو): اسلام آباد فوڈ اتھارٹی (IFA) کی جانب سے جاری کردہ مارچ 2026 کی کارکردگی رپورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے ریسٹورنٹس، شاپس اور دیگر فوڈ پوائنٹس کے حوالے سے انتہائی تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ چیک کیے گئے سینکڑوں فوڈ پوائنٹس میں سے تقریباً تمام ہی حفظانِ صحت کے اصولوں پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔

### **مارچ 2026 کی رپورٹ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار**

اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے یکم مارچ سے 31 مارچ 2026 کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں بھرپور انسپکشنز کیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

* **مجموعی وزٹ:** 1618 فوڈ پوائنٹس کا معائنہ کیا گیا۔
* **معیار کی صورتحال:** ان 1618 پوائنٹس میں سے **صرف 1 پوائنٹ** معیار کے مطابق پایا گیا، جبکہ **1617 پوائنٹس غیر معیاری** نکلے۔
* **قانونی کارروائی:** \* **سیل (Seal):** قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر **24 یونٹس** کو سیل کر دیا گیا۔
* **ایف آئی آر:** سنگین غفلت پر **04 افراد** کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
* **جرمانے:** **08 مقامات** پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔
* **اصلاحی اقدامات:** \* **720 پوائنٹس** کو باقاعدہ امپرومنٹ نوٹسز جاری کیے گئے۔
* **865 پوائنٹس** کو زبانی ہدایات (Verbal Instructions) دی گئیں۔
* **لائسنسنگ اور شکایات:** 205 نئے لائسنس جاری کیے گئے جبکہ شہریوں کی 32 شکایات کا موقع پر ازالہ کیا گیا۔

### **فوڈ اتھارٹی کا موقف**

ترجمان اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ فوڈ سیفٹی کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اس رپورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں خوراک کی تیاری اور فروخت کے عمل پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

—–

**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) پر ہم عوامی صحت اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کی مستند کوریج فراہم کرتے ہیں۔ آپ کا تعاون ہمیں حقائق پر مبنی رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج ہی سپورٹ کریں: [www.hrnww.com/?page\_id=1083]

اپنا تبصرہ بھیجیں