گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں 150 روپے فی کلو تک اضافے کا خدشہ

**اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو):** ملک بھر میں مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے، جہاں گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں **100 سے 150 روپے فی کلو** تک کے بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PVMA) نے پیداواری لاگت میں اضافے کو اس ممکنہ اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔

### **قیمتوں میں اضافے کی وجوہات**

پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایڈوائزر کے مطابق، حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے گھی ملوں کی کمر توڑ دی ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے پیچھے درج ذیل عوامل بتائے جا رہے ہیں:

* **ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات:** ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے خام مال کی سپلائی اور تیار مال کی ترسیل پر آنے والے اخراجات میں ناقابل برداشت اضافہ ہوا ہے۔
* **پروڈکشن لاگت:** بجلی، گیس اور دیگر پیداواری عوامل کی قیمتیں بڑھنے سے گھی کی فی کلو لاگت بڑھ گئی ہے۔

### **حکومت سے مطالبہ**

پی وی ایم اے (PVMA) نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ:

* حکومت فی الفور ایک **اعلیٰ سطح کا پینل** تشکیل دے جو صنعت کے مسائل کا جائزہ لے۔
* پینل کے ذریعے ایسا راستہ نکالا جائے جس سے عوام پر بوجھ کم ہو سکے اور قیمتوں میں کمی ممکن بنائی جا سکے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گھی اور تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ہوتا ہے، تو اس سے نہ صرف گھریلو بجٹ متاثر ہوگا بلکہ بیکری مصنوعات اور تیار کھانوں کی قیمتوں میں بھی خودبخود اضافہ ہو جائے گا۔

—–

**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) پر ہم معاشی صورتحال اور عوامی مسائل کی مستند کوریج فراہم کرتے ہیں۔ آپ کا تعاون ہمیں حقائق پر مبنی رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج ہی سپورٹ کریں: [www.hrnww.com/?page\_id=1083]

اپنا تبصرہ بھیجیں