کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائی کورٹ نے مبینہ پولیس مقابلے میں لاپتہ شہری شاہ میر کی ہلاکت کے معاملے پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی شخص کا مجرمانہ ریکارڈ پولیس کو ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں دیتا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ شاہ میر کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد جعلی مقابلے میں قتل کیا، جبکہ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مقابلے میں جاں بحق شخص ایک عادی ملزم تھا اور مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے۔
عدالت نے ریکارڈ کے مطابق واضح کیا کہ بظاہر واقعات کا تسلسل مشکوک پولیس مقابلے کی تائید کرتا ہے۔ عدالت نے آرٹیکل 14 آئین پاکستان کے تحت انسانی وقار اور تشدد سے تحفظ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری خود سزا دینے کی نہیں بلکہ ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ:
مقدمے کی تحقیقات فوری طور پر ایف آئی اے کے حوالے کی جائیں۔
ایف آئی اے قانون کے مطابق 30 یوم میں تحقیقات مکمل کرے۔
تفتیشی افسر درخواست گزار اور دیگر گواہان کے بیانات ریکارڈ کرے۔
فیصلے کی نقول متعلقہ حکام کو فوری ارسال کی جائیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر پولیس کو ایسے اقدامات کی اجازت دی گئی تو عدالتی نظام کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔


