ایس پی پی آر اے کے شفاف نظام کے باوجود سوالات برقرار، بڑے منصوبوں کے بعد انکوائریوں کا تسلسل

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (SPPRA) کے قواعد و ضوابط کاغذی طور پر ایک جدید، منظم اور شفاف نظام کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں اوپن بڈنگ، ای ٹینڈرنگ اور مانیٹرنگ جیسے مضبوط طریقہ کار شامل ہیں۔
تاہم زمینی حقائق کے حوالے سے یہ سوال مسلسل اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر نظام اتنا جامع اور شفاف ہے تو پھر بڑے منصوبوں کے بعد انکوائریوں کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
قواعد کے مطابق ٹینڈرنگ کا عمل کھلا اور شفاف ہونا چاہیے، لیکن شکایات برقرار ہیں کہ اکثر بڑے منصوبوں میں وہی مخصوص ٹھیکیدار سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح مانیٹرنگ کے نظام کے باوجود بعض اوقات ناقص کام مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ قوانین کی موجودگی نہیں بلکہ ان کے مؤثر نفاذ کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی مواقع پر شفافیت کے دعوے عملی مراحل میں کمزور پڑ جاتے ہیں اور فیصلے بعض اوقات ادارہ جاتی طریقہ کار کے بجائے روابط اور اثر و رسوخ سے متاثر ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ انکوائری کا عمل بعض اوقات احتساب کے بجائے تاخیر کا ذریعہ بن جاتا ہے، کیونکہ تحقیقات اس وقت شروع ہوتی ہیں جب منصوبہ مکمل ہو چکا ہوتا ہے اور مالی و انتظامی اثرات سامنے آ چکے ہوتے ہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ شفافیت کے دعوؤں کو حقیقت بنانے کے لیے صرف قوانین نہیں بلکہ ان کے سخت اور غیر جانبدار نفاذ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں