اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں پر ردعمل دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ عدالت نے حکومت کو مبینہ طور پر 60 سیکنڈ میں ریلیف فراہم کر دیا۔
اس تاثر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے واضح کیا کہ عدالت میں کسی بھی کیس کا فیصلہ بغیر مکمل غور و فکر کے نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ ججز ہر کیس کی فائل کو تفصیل سے پڑھ کر عدالت میں آتے ہیں اور بعض اوقات فائلز کا مطالعہ کرنے میں دو دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ کسی بھی مقدمے کا فیصلہ محض 60 سیکنڈ میں کر دیا جائے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں تمام فیصلے قانونی تقاضوں، شواہد اور مکمل ریکارڈ کو دیکھنے کے بعد ہی کیے جاتے ہیں، اس لیے سوشل یا میڈیا رپورٹس میں دی جانے والی ایسی باتیں حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں۔انہوں نے زور دیا کہ عدالتی فیصلوں کے بارے میں درست اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ ضروری ہے تاکہ عوام میں غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔


