اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2024 کے عام انتخابات سے متعلق ایک اہم کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جہاں فارم 45 کی بنیاد پر انتخابی نتیجہ واضح ہو، وہاں دوبارہ پولنگ کرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 سے خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
تحریری فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ ووٹ محض کاغذ پر کھینچی گئی لکیریں نہیں بلکہ یہ عوام کی خودمختار مرضی کا اظہار ہے، جس کا احترام آئینی اور قانونی تقاضا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا اور انتخابی نتائج میں تبدیلی ایک سنگین بے ضابطگی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق نتائج میں دانستہ تبدیلی فوجداری کارروائی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ یہ عدالت بے اختیار نہیں ہے۔ جہاں شواہد حتمی طور پر یہ ثابت کریں کہ اپیل کنندہ نے قانونی اکثریت حاصل کی، وہاں مناسب راستہ دوبارہ پولنگ کا حکم دینا نہیں بلکہ اپیل کنندہ کو باقاعدہ طور پر منتخب قرار دینا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون نہ تو دھاندلی کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی اس کے نتائج کو برقرار رہنے دیتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آئندہ انتخابی تنازعات میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


