اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے سوال کیا ہے کہ کیا سزا یافتہ افراد کے لیے “عمران خان رہائی فورس” جیسی فورس بنانے کی اجازت کابینہ کی جانب سے دی گئی تھی۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ سزا یافتہ افراد کے لیے کوئی خصوصی فورس نہیں بننی چاہیے اور قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
جسٹس باقر نے استفسار کیا کہ ایسی فورس کے قیام کی اجازت کس نے دی اور کیا یہ قانونی دائرہ کار کے اندر ہے، جس پر وزیراعلیٰ کے پی سے جواب طلب کیا گیا ہے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ آئینی اور قانونی حدود کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور سزا یافتہ افراد کے لیے کوئی غیر قانونی اقدام نہ اٹھایا جائے۔


