**کوئٹہ/جیکب آباد (ایچ آر این ڈبلیو):** بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو ملانے والی اہم ترین ٹرین **جعفر ایکسپریس** کی سروس اچانک منسوخ ہونے سے سینکڑوں مسافر رُل گئے۔ ٹریک کی ہنگامی مرمت کے نام پر ٹرین کی بندش نے جہاں کوئٹہ اسٹیشن پر مسافروں کو مشکل میں ڈالا، وہیں پشاور سے آنے والی ٹرین کو جیکب آباد میں روک دینے سے خواتین اور بچوں سمیت مسافروں کو شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
### **انتظامیہ کی غفلت اور مسافروں کا احتجاج**
ریلوے حکام کا موقف ہے کہ ٹریک کی خراب حالت اور حالیہ موسمی اثرات کے باعث مرمتی کام ناگزیر تھا تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔ تاہم، مسافروں نے پیشگی اطلاع نہ دینے پر ریلوے انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
* **حاجی عبدالرحمان (بزرگ مسافر):** “تین ماہ بعد بیٹی سے ملنے پشاور جا رہا تھا، اب ٹکٹ ہاتھ میں لیے یہاں خوار ہو رہا ہوں۔”
* **علی حسن (طالب علم):** “میرا یونیورسٹی کا امتحان ہے، ٹرین منسوخ ہونے اور متبادل ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے میرا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔”
### **بلوچستان کا ریلوے نظام مفلوج**
مسافروں نے دہائی دی ہے کہ یہ مسئلہ صرف جعفر ایکسپریس تک محدود نہیں رہا۔ کراچی جانے والی **بولان میل** اور چمن کے لیے **چمن پسنجر** بھی کئی روز سے بند ہیں، جس کے باعث صوبے کا دوسرے شہروں سے رابطہ کٹ کر رہ گیا ہے۔ سڑکوں پر حالیہ بارشوں کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہے اور ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے۔
### **جیکب آباد میں مسافروں کی بے بسی**
پشاور سے کوئٹہ آنے والی ٹرین کو جیکب آباد اسٹیشن پر روک دیا گیا، جہاں مسافر گھنٹوں سے پلیٹ فارم پر بیٹھے ریلوے عملے کی یقین دہانیوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ٹرین کے اندر اور اسٹیشن پر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور عملہ صرف “مرمت جاری ہے” کی گردان الاپ رہا ہے۔
### **ریلوے حکام کی یقین دہانی**
کوئٹہ ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ مسافروں کو ٹکٹوں کی رقم **سو فیصد واپس** کی جائے گی اور قوی امکان ہے کہ مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد کل سے جعفر ایکسپریس اپنی معمول کی سروس بحال کر دے گی۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف رقم کی واپسی حل نہیں، بلکہ ایسی صورتحال میں ریلوے کو فوری متبادل ٹرانسپورٹ فراہم کرنی چاہیے۔
—
### **آزاد صحافت کا ساتھ دیں**
**ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی (HRNW)** دنیا کا نمبر 1 انسانی حقوق کا نیوز پورٹل ہے، جو عوامی مسائل اور بنیادی سفری حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔
👉 **[Support HRNW: hrnww.com/support-us](https://hrnww.com/support-us)**


