کراچی: (ایچ آر این ڈبلیو) کراچی کی سول کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں **ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ (WWBS)** کی گورننگ باڈی سے متعلق **4 فروری 2026** کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ گورننگ باڈی میں مزدوروں کی نمائندگی کرنے والے مخصوص ارکان کی قانونی اہلیت پر اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد کیا ہے۔
**اہم عدالتی کارروائی اور اعتراضات:**
* **حبیب الدین جوناڈی:** درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حبیب الدین جوناڈی ایچ بی ایل (HBL) کے ریٹائرڈ ملازم ہیں اور WWBS ایکٹ کی شقوں کے تحت وہ “ورکر” کی تعریف پر پورا نہیں اترتے، اس لیے وہ رکن رہنے کے اہل نہیں ہیں۔
* **ناصر عزیز منصور اور ذوالفقار شاہ:** عدالت کو بتایا گیا کہ یہ دونوں افراد کبھی “ورکر” نہیں رہے، جبکہ ذوالفقار شاہ اس وقت ایک نجی کمپنی میں عہدے دار ہیں۔
* **رحمت شاہ:** ان کی اہلیت کو بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔
**عدالتی حکم اور آئندہ سماعت:**
معزز عدالت نے دلائل سننے کے بعد گورننگ باڈی کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے تمام متعلقہ ارکان کو حکم دیا ہے کہ وہ **2 اپریل 2026** کو صبح **8:30 بجے** ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہو کر اپنی اہلیت سے متعلق وضاحت پیش کریں۔
یاد رہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے فنڈز اور گورننس کا معاملہ صوبے کے لاکھوں مزدوروں کے حقوق سے جڑا ہوا ہے، اور اس نوٹیفکیشن کی معطلی کو مزدور تنظیموں کی جانب سے شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
—
مزدوروں کے حقوق اور صوبائی اداروں میں شفافیت کی رپورٹنگ ہمارا عزم ہے۔ اس کیس کی مزید تفصیلات اور 2 اپریل کی عدالتی کارروائی کی اپڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں یا [hrnww.com/support-us](http://hrnww.com/support-us) پر ہماری معاونت کریں۔


