غزہ میں کچرے کا بڑھتا ہوا بحران: ایک انسانی اور ماحولیاتی المیہ

**غزہ (ایچ آر این ڈبلیو):** اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مسلسل ناکہ بندی کے نتیجے میں غزہ کی پٹی اس وقت تاریخ کے بدترین ماحولیاتی اور صحت کے بحران کی زد میں ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق، غزہ میں روزانہ تقریباً **1,300 ٹن** ٹھوس فضلہ پیدا ہو رہا ہے، جبکہ پورے محصور علاقے میں اب تک **700,000 ٹن** سے زائد کچرا بے ترتیب ڈھیروں کی صورت میں جمع ہو چکا ہے۔

### **بحران کی بنیادی وجوہات**

* **ایندھن اور مشینری کی قلت:** اسرائیلی پابندیوں کے باعث میونسپلٹیز کو ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے کچرا اٹھانے والی گاڑیاں اور بھاری مشینری معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
* **لینڈ فل سائٹس تک رسائی کی بندش:** غزہ کی دو بڑی اور مرکزی لینڈ فل سائٹس (جحر الدیک اور الفخاری) اسرائیلی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے ناقابلِ رسائی ہیں، جس کے نتیجے میں شہری علاقوں اور پناہ گزین کیمپوں کے اندر ہی کچرے کے عارضی ڈھیر بن گئے ہیں۔
* **تباہ شدہ انفراسٹرکچر:** بمباری کے نتیجے میں میونسپلٹی کے دفاتر، کچرے کے کنٹینرز اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے صفائی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔

### **صحت اور ماحولیات پر اثرات**

کچرے کے ان ڈھیروں نے غزہ کو بیماریوں کے گڑھ میں تبدیل کر دیا ہے:

* **بیماریوں کا پھیلاؤ:** کوڑے کے ڈھیروں کے باعث کیڑے مکوڑوں، چوہوں اور آوارہ کتوں کی بہتات ہو گئی ہے، جو ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور جلد کی مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
* **زہریلی گیسیں اور بدبو:** کچرے کے ڈھیروں سے اٹھنے والی تعفن زدہ بدبو اور زہریلی گیسوں نے سانس لینا دوبھر کر دیا ہے، جبکہ ان ڈھیروں میں بار بار لگنے والی آگ سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہا ہے۔
* **پانی کی آلودگی:** بارشوں کے دوران کچرے سے رسنے والا گندا پانی زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو آلودہ کر رہا ہے، جو کہ پہلے ہی پینے کے قابل نہیں رہا۔

### **عالمی اداروں کی کوششیں**

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) اور دیگر اداروں نے غزہ شہر کے **فراس مارکیٹ** جیسے بڑے ڈھیروں سے کچرا منتقل کرنے کے لیے عارضی منصوبے شروع کیے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک مستقل جنگ بندی اور ناکہ بندی کا خاتمہ نہیں ہوتا، یہ اقدامات سمندر میں قطرے کے برابر ہیں۔ عالمی برادری سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر مداخلت کرے تاکہ غزہ کو اس “ماحولیاتی نسل کشی” سے بچایا جا سکے۔

—–

**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) انسانی حقوق کی پامالیوں اور غزہ کے مظلوم عوام کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ ہماری اس مشن میں معاونت کے لیے آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر اپنا تعاون پیش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں