بیلہ(ایچ آراین ڈبلیو)بیلہ میں جنگلات کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس کے باعث علاقے میں قدرتی توازن بگڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق متعلقہ قوانین اور اداروں کی موجودگی کے باوجود قیمتی درختوں کی کٹائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جبکہ لکڑی سے بھرے ٹرک مختلف بازاروں اور شہروں تک بلا روک ٹوک منتقل کیے جا رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق ایک طرف جنگلات کے تحفظ اور ماحول کے فروغ کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب درخت روزانہ کی بنیاد پر کاٹے جا رہے ہیں، جس سے قانون پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
بیلہ کے جنگلات کی مسلسل کٹائی کے نتیجے میں ماہرین کے مطابق زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے، زرخیز زمین اپنی افادیت کھو رہی ہے جبکہ جنگلی حیات کے قدرتی مسکن بھی تباہ ہو رہے ہیں۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ درخت ماحولیاتی توازن، موسمی اعتدال اور انسانی زندگی کی بقا میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی بے رحمانہ کٹائی سے شدید گرمی، خشک سالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مقامی سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر مؤثر اقدامات کریں، جبکہ محکمہ جنگلات بلوچستان کو غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی جائے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والی نسلوں کو سرسبز جنگلات کے بجائے بنجر زمین، گردوغبار اور شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


