کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے سوالنامے کے تحت اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔
جواب میں ایس بی سی اے نے بتایا کہ گل پلازہ کی ابتدائی بلڈنگ اپروول پلان کراچی بلڈنگ اتھارٹی نے 1979 میں جاری کی تھی۔ بعد میں 1998 میں جاری ریوائیزڈ اپروول پلان میں گراؤنڈ فلور سے لے کر تین فلورز تک کی تعمیر کی اجازت دی گئی تھی، جبکہ 2003 میں اس پلان میں مزید ترمیم کی گئی۔
1998 میں گل پلازہ میں 1043 دوکانوں کی اجازت دی گئی تھی اور ایمنسٹی اسکیم کے تحت 2003 میں 1102 دوکانوں کی مزید اجازت دی گئی۔ تاہم ایس بی سی اے نے کہا کہ اس وقت گل پلازہ میں کتنی دوکانیں فعال تھیں، اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کیونکہ اتھارٹی پوسٹ کمپلیشن سروے نہیں کرتی، جب تک تعمیرات سے متعلق کوئی شکایت موصول نہ ہو۔ آخری مرتبہ 2003 میں گل پلازہ کا سروے کیا گیا تھا، جب ریگولائزیشن کا عمل جاری تھا۔


