اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) اسلام آباد میں موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ طلباء کو ریلیف دیا جائے اور انہیں ہراساں نہ کیا جائے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ، “جب ہم سٹوڈنٹ تھے تو طلباء کے لیے رعایت دی جاتی تھی، آج بھی یہی ہونا چاہیے۔” عدالت نے انتظامیہ کو تاکید کی کہ ایم ٹیگ کے نفاذ میں طلباء کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کیس کے دوران اسٹیٹ کونسل نے موقف اپنایا کہ موٹر سائیکل ایم ٹیگ کچہری دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے پیش نظر لازمی بنایا گیا، کیونکہ دھماکے میں 12 افراد شہید اور 36 زخمی ہوئے تھے، اور واقعے میں موٹر سائیکل استعمال ہوئی تھی۔ اس لیے داخلے کے وقت ایم ٹیگ لازمی قرار دیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عوام کی حفاظت اہم ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ طلباء کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے اور ان کے لیے رعایت دی جائے۔
عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو انتظامیہ کا جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔
اس موقع پر اسٹیٹ کونسل عبد الرحمن انتظامیہ اور ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔


