کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) جامعہ کراچی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہر معاشرے کو بعض بنیادی مسائل کا سامنا رہتا ہے جنہیں سنجیدگی اور بروقت توجہ دینا ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر ان مسائل کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس کے نتائج سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں دل کے مریض کو بائی پاس سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دانشمندی، ذمہ داری اور اجتماعی کاوشوں کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرہ ہم آہنگی اور استحکام کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے شعبہ جرمیات جامعہ کراچی کے زیر اہتمام کلیہ قانون کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمیناربعنوان “خطرے سے دوچار معاشرہ: ابھرتے ہوئے چیلنجزاور طلبہ کا کردار” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے مزیدکہا کہ موجودہ دور کا سب سے بڑا مسئلہ عدم مساوات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف، برابری اور مساوات کے اصولوں کو اپنائے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ رنگ و نسل، ذات پات اور دیگر امتیازات سے بالاتر ہو کر سب کے ساتھ یکساں سلوک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل ہی مساوات اور عدل کا واضح درس دیا، جس پر عمل پیرا ہو کر ایک مثالی معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسائل زندگی کا حصہ ہیں اور انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کا مؤثر حل تلاش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی مسئلہ مستقل نہیں ہوتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ علم و آگہی کو بروئے کار لاتے ہوئے اجتماعی سطح پر اپنی ذمہ داریاں ادا کی جائیں تاکہ معاشرے کی بہتری ممکن بنائی جا سکے۔ تقریب کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں وائس چانسلر نے طلبہ کے مختلف سوالات کے تفصیلی اور مدلل جوابات دیے۔
قبل ازیں شعبہ جرمیات جامعہ کراچی کی چیئر پرسن پروفیسرڈاکٹر ناعمہ سعید نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کسی بھی قوم کا مستقبل اور فکری سرمایہ ہوتے ہیں، جو اپنی صلاحیتوں، شعور اور ذمہ داری کے احساس کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
قبل ازیں ڈاکٹر ناعمہ سعید نے مزید کہا کہ اگر طلبہ تحقیق، تنقیدی سوچ اور اخلاقی اقدار کو اپنائیں تو وہ نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دے اور ایک باشعور، باکردار اور فعال شہری کے طور پر سامنے آئے۔
سیمینار سے پروجیکٹ ڈائریکٹر وائس آف سندھ اور صدر میٹرون نیوز عمیر ہارون، ڈسٹرکٹ ایسٹ چیف سی پی ایل سی سندھ عابد عذیر،ڈپٹٰی چیف سی پی ایل سی سندھ علی حاجی،رئیس کلیہ قانون جامعہ کراچی بیرسٹرمحمدذیشان ایدھی،انچارج لاء ڈیپارٹمنٹ توحیداللہ صدیقی اور نامور صحافی علاءالدین خانزادہ نے سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی مسائل کو اُجاگر کرنے اور ان کے مؤثر حل کی تلاش کے لیے اس نوعیت کے سیمینارز کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے ابھرتے ہوئے چیلنجز اور ان سے نمٹنے میں طلبہ کے کلیدی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور وہ اپنی صلاحیتوں، عزم اور مثبت سوچ کے ذریعے درپیش چیلنجز پر قابو پا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں فکری و شعوری نشستوں کا انعقاد معاشرے کی مثبت سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔


