کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائیکورٹ/ آئینی بنیچ میں سٹی کورٹس ،سندھ ہائیکورٹ اور دیگر عدالتوں میں سہولتوں کا فقدان اور سیکیورٹی کے مسائل
عدالت کے حکم کے باوجود آئی جی سندھ اور میئر کراچی نے فوکل پرسنز نامزد نہیں کئے
ہائیکورٹ بار اور کراچی بار کی جانب سے بھی فوکل پرسنز نامزد نہیں ہوئے
اب ہم آئی جی کو کیا کہیں جب وکلا کے اپنے ہی نمائندے نامزد نہیں ہوسکے ۔ جسٹس آغا فیصل
کراچی بار اور ہائیکورٹ کے منتخب نمائندے کینالز کے سلسلے میں دھرنے پر گئے ہوئے ہیں، اختر حسین ایڈووکیٹ
ایک چھوٹا سا معاملہ ہے فون پر بات کرلیں، آئندہ سماعت سے پہلے حل کرلیں ۔ عدالت
چیف سیکرٹری آفس کی جانب سے فوکل پرسن کی تعیناتی پر ہچکچاہٹ
ممکنہ طور پر ارشد بھٹو چیف سیکرٹری آفس کے فوکل پرسن ہوسکتے ہیں، نمائندہ چیف سیکرٹری
ہوسکتے ہیں سے ہم کیا مراد لیں؟ ہیں یا نہیں ہیں۔ جسٹس آغا فیصل
اگر چیف سیکرٹری فوکل پرسن نامزد نہیں کرنا چاہتے تو نا کریں،ہم نوٹ کرلیتے ہیں۔ عدالت
میئر کراچی کی جانب سے وکیل پیش، عدالت کا جلد فوکل پرسن نامزد کرنے کی ہدایت
اس مالی سال میں مسائل کے حل کیلیے شارٹ ٹرم پلاننگ کرلین۔عدالت
ہمیں وار فٹنگ پر کام کرنا ہوگا، سٹی کورٹ کمپلیکس میں سیکیورٹی سمیت بہت سے مسائل ہیں۔ عدالت
عدالت نے فریقین کو فوکل پرسنز نامزد کرنے کیلیے مہلت دیتے ہوئے سماعت 29اپریل تک ملتوی کردی
ہمیں مسائل کے حل کے لیے ایک بیچ پر ہونا چاہئے،جسٹس آغا فیصل
کابینہ اور اے ڈی پی میں بھی اس مسلے کو اٹھانا چاہیے، عدالت
شارٹ اور لانگ ٹرم مسائل کے حل کے لیے کیا کچھ ہوسکتا ہے دیکھنا ہوگا،عدالت
اس اقدام کے ثمرات ایک سال بعد نطر آئیں گے،عدالت
اوریجنل سائیڈ کے کیسز ماتحت عدلیہ کو منتقل ہوچکے ہیں، جسٹس آغا فیصل
امید اب کیسز کے فیصلے جلد ہونے چاہیں ، جسٹس آغا فیصل
سٹی کورٹ ایک مچھلی مارکیٹ لگتا ہے وہاں کوئی سہولیات نہیں ہیں، اختر حسین ایڈووکیٹ
اگر خدا نخواستہ بھگڈر مچ جائے تو نکلنے کا راستہ نہیں ہے،ضیا اعوان ایڈووکیٹ
جہاں ٹوائلٹ تھے وہاں کورٹ یا جج بیٹھے ہوئے،درخواست
سٹی کورٹ میں سائلین ،عدالتی عملے ،وکلاء اور خواتین وکلاء کے مسائل ہیں ،درخواست


