کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائیکورٹ میں پاکستان ریلویز کی زمین پر کمرشل اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی اجازت کے خلاف درخواست ، عدالت نے فریقین سمیت ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا
درخواست گلستان جوہر بلاک 10میں واقع مون گارڈن کے بلڈر عبد الرزاق کی جانب سے دائر کی گئی ہے
درخواست گزار بلڈر نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعداپنا پراجیکٹ مکمل کیا، بیرسٹر شاہ میر
فیصل کنٹونمنٹ بورڈ ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کوکمرشیل سرگرمیوں کی اجازت دے رہا ہے، وکیل
سپریم کورٹ ریلوے کو آپریشنل اور انفرا اسٹرکچر کے علاؤہ زمین کے استعمال سے روک چکی ہے۔ درخواست
سپریم کورٹ 2020میں قرار دے چکی ہے کہ ریلوے اپنے ملازمین کیلئے بھی ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بناسکتی۔ وکیل
سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی کے بعد ایس بی سی اے یا فیصل کنٹونمنٹ بورڈ کمرشل استعمال کیلیے زمین کی حیثیت تبدیل نہیں کرسکتے ۔بیرسٹر شاہ میر
عدالت قرار دے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہاؤسنگ سوسائٹی کوئی بلڈنگ پلان نہیں بناسکتی، استدعا
قرار دیا جائے کہ 2019کے بعد سوسائٹی کی جانب سے زمین کو کمرشل مقاصد کیلیے استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔استدعا
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد زمین کے کمرشیل استعمال کے کتنے اجازت ناموں کی تفصیلات طلب کی جائیں ۔ درخواست میں استدعا


