کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ کے سینئر وزیر شرجيل انعام ميمن نے کہا ہے کہ کراچی میں شہری ترقی کے لیے متعدد بڑے منصوبے تیز رفتاری سے جاری ہیں۔ شہر میں 9 بڑے منصوبے 7.66 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیے جا رہے ہیں، کے ڈی اے کے 76 منصوبے 13.22 ارب روپے میں جاری ہیں، جبکہ کے ایم سی 200 منصوبوں پر 18.36 ارب روپے خرچ کر رہا ہے۔ KW&SC اور لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ حب کینال اور ڈملوٹی پانی کی پائپ لائن پروجیکٹ ایک سال کے اندر مکمل ہوں گے اور DHA کو 10 MGD پانی فراہم کریں گے۔ غیر ملکی مالی معاونت سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ میں مرحلہ اول 25.47 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو رہا ہے اور مرحلہ دوم 167.10 ارب روپے میں کراچی کے پرانے پانی اور سیوریج نظام کی تجدید کرے گا۔ CLICK اور SWEEP منصوبے بھی شہر میں فضلہ اور پانی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کر رہی ہے۔ موجودہ مالی سال میں 130 اسکیموں کے تحت 1,280 تعلیمی یونٹس کی تکمیل پر کام جاری ہے، جس پر تخمینہ لاگت 15.57 ارب روپے ہے اور 1.88 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ سیلاب متاثرہ اسکولوں کی بحالی کے لیے 30 اضلاع میں 12.33 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جبکہ جاپان کے بین الاقوامی تعاون ادارہ JICA کے پروگرام کے تحت پانچ اضلاع میں 20 لڑکیوں کے اسکولوں کو پرائمری سے ایلیمنٹری سطح تک ترقی دی گئی ہے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے اشتراک سے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت 117 نئے ثانوی اسکول تعمیر کیے جا رہے ہیں اور 2,630 اساتذہ کو تربیت دی جا رہی ہے، جبکہ 528 اسکولوں کو ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ساتھ اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ارلی لرننگ اینہانسمنٹ پروگرام کے تحت 12 اضلاع میں 13,000 اسکولوں کے 21,500 اساتذہ کو تربیت دی گئی ہے، اور اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم (SAMRS) کو 600 اسکولوں میں متعارف کرایا گیا ہے۔ کالج ایجوکیشن شعبہ میں متعدد نئے منصوبے ٹینڈنگ اور ابتدائی عملدرآمد کے مراحل میں ہیں، تاکہ ہر بچے کو محفوظ، جدید اور جامع تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی حکومت کے شعبے میں پانی، صفائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی فوری تکمیل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبہ 2025–26 کے لیے 756 اسکیموں پر مشتمل ہے، جس میں 713 جاری، 17 کئری فورورڈ اور 43 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔ گزشتہ سال 424 اسکیمیں مکمل کر کے صوبے کے شہری ڈھانچے اور خدمات میں بہتری لائی گئی۔
وزیر شرجيل انعام ميمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی یہ تمام اقدامات عوام کی زندگیوں میں بہتری، تعلیم کے معیار میں اضافہ اور شہری سہولیات کے جدید معیار کے لیے کیے جا رہے ہیں۔


