ریڈ لائن منصوبہ کراچی کے عوام کے لیے عذاب بن چکا ہے، منعم ظفر خان کا یونیورسٹی روڈ پر احتجاجی خطاب

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبے کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمد اور امیر ضلع شرقی نعیم اختر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبہ یہاں کی آبادی اور کاروباری مراکز کے لیے ایک مستقل عذاب کی شکل اختیار کر چکا ہے اور پیپلز پارٹی نے اس منصوبے کے نام پر کراچی کے عوام کے ساتھ بدترین دھوکا دہی کی ہے۔

انہوں نے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2016 میں 9.7 ملین ڈالر کی بھاری لاگت سے اس کی فیزیبلٹی شروع ہوئی جو تین سال تک بنتی رہی۔ جنوری 2022 میں کام کا آغاز ہوا اور اسے دسمبر 2023 تک مکمل ہونا تھا، لیکن آج 2026 میں بھی یہ منصوبہ ادھورا ہے۔ منعم ظفر نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب لوگ میمز بنا رہے ہیں کہ شاید آبنائے ہرمز کھل جائے گی مگر یونیورسٹی روڈ نہیں کھلے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس بدانتظامی کی وجہ سے اب تک چار مزدور اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور شارع فیصل کے بعد شہر کی اس بہترین شاہراہ کو کھنڈر بنا دیا گیا ہے۔

منعم ظفر خان نے میئر کراچی سے بھی سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ کراچی کا 55 ارب روپے کا فنڈ کہاں جا رہا ہے؟ شہر سے کچرا کیوں نہیں اٹھایا جا رہا اور کریم آباد انڈر پاس کی ‘سوفٹ اوپننگ’ کے دعوے کیا گھر بیٹھ کر پورے کیے جائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کرپشن اور بدانتظامی کا نمونہ بن چکی ہے جس نے تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی روڈ کو فوری طور پر اصل شکل میں بحال کیا جائے اور اعلان کیا کہ ہم اس ظالمانہ نظام اور وڈیرہ شاہی کے خلاف عوام کو کھڑا کریں گے اور اپنا حق چھین کر لیں گے۔

**اپیل برائے تعاون:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے والے دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کی حمایت کریں۔ آپ کے تعاون سے ہم سچائی کی ترویج اور مظلوموں کی آواز بننے کا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔
مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں