8

تعلیمی اداروں کو ڈرگ اور اسموک فری قرار دیا جائے، خلاف ورزی پر ‘زیرو ٹالرنس پالیسی’ اپنائی جائے گی: ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا

**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس ڈسٹرکٹ ساؤتھ کراچی، اسد رضا نے نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے سخت ترین عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں ڈرگز کے استعمال کا بنیادی آغاز سگریٹ نوشی (Smoking) سے ہی ہوتا ہے، جس پر ابتدائی سطح پر ہی قابو پانا ناگزیر ہے۔

جیو نیوز (Geo News) کے مارننگ شو ‘جیو پاکستان’ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے منشیات کے خاتمے کے لیے پولیس کی حکمتِ عملی سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری جامع ‘انسدادِ منشیات پالیسی’ کے 5 اہم ترین جزو ہیں، اور اس پالیسی کے تحت ہم اس بات کو سو فیصد یقینی بنا رہے ہیں کہ کراچی کے تمام تعلیمی اداروں (اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز) میں سگریٹس، ویپس (Vapes) اور دیگر تمام اقسام کی منشیات کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس پالیسی’ اپنائی جائے۔

### **طلبہ اور اساتذہ کے لیے آگہی مہم کا آغاز**

ڈی آئی جی ضلع ساؤتھ کا کہنا تھا کہ صرف قانونی کارروائی کافی نہیں، بلکہ اسموکنگ، ویپنگ اور دیگر مہلک ڈرگز کے خلاف اب بڑے پیمانے پر عوامی سطح پر مہم چلائی جائے گی۔ اس مہم کے تحت تعلیمی اداروں کے اندر طلبہ، طالبات اور اساتذہ کو منشیات اور جدید نشہ آور مصنوعات کے ذہنی، جسمانی اور سماجی مضر اثرات سے متعلق تفصیلی آگہی (Awareness) فراہم کی جائے گی تاکہ طلبہ خود اس ناسور سے دور رہیں۔

### **تعلیمی اداروں میں ‘انسدادِ منشیات کمیٹیوں’ کے قیام کی اپیل**

اسد رضا نے کراچی بھر کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ سے پرزور درخواست کی کہ وہ اپنے کیمپسز اور حدود کو فوری طور پر باقاعدہ ‘ڈرگ اور اسموک فری زون’ ڈکلیئر کریں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ اپنے اداروں میں فوری طور پر ‘انسدادِ منشیات کمیٹیاں’ (Anti-Drug Committees) تشکیل دیں جو طلبہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

### **نشے کے عادی طلبہ کے لیے سزا نہیں، ری ہیب (Rehab) کا عزم**

ڈی آئی جی ساؤتھ نے اپنے انٹرویو میں ایک انتہائی ہمدردانہ اور اصلاحی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس کا مقصد طلبہ کا مستقبل تباہ کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کوئی بھی اسٹوڈنٹ بدقسمتی سے کسی بھی قسم کے نشے کے استعمال میں ملوث پایا گیا، تو اسے مجرم سمجھ کر سزا دینے کے بجائے اس کا مناسب علاج اور ری ہیبیلی ٹیشن (Rehabilitation/بحالیِ صحت) کو ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جائے گا تاکہ وہ دوبارہ ایک کارآمد شہری بن کر معاشرے میں لوٹ سکے۔

> **ہماری مہم کا حصہ بنیں:**
> نوجوانوں کے حقوق، تعلیمی اداروں کے تحفظ اور منشیات کے خلاف بروقت آواز اٹھانے کے مشن میں **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل) کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کو فروغ دینے اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے آواز بلند کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
> **تعاون کے لیے یہاں کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں