4

عباسی شہید اسپتال کراچی میں سنگین چوری: بچوں کے وارڈ سے آکسیجن لائن کے پائپ غائب، سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ موڑ دیا گیا، اسپتال ملازمین پر شبہ

**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** کراچی کے بلدیہ عظمیٰ (KMC) کے زیرِ انتظام چلنے والے سب سے بڑے طبی مرکز “عباسی شہید اسپتال” میں انسانی ہمدردی اور طبی اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نامعلوم چوروں نے بچوں کے وارڈ (Paediatric Ward) کو نشانہ بنایا ہے، جہاں سے انتہائی اہم آکسیجن لائنوں کے تانبے کے پائپ اور دیگر قیمتی سامان چوری کر لیا گیا ہے۔ اس سنگین واردات نے اسپتال کی سیکیورٹی اور معصوم مریضوں کی زندگیوں پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

### **منصوبہ بند چوری اور کیمروں کا رخ موڑنے کا انکشاف**

ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، یہ چوری کوئی عام واردات نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ چوروں نے کارروائی کے دوران بچوں کے وارڈ میں نصب نگرانی کے سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کا رخ دوسری جانب موڑ دیا تھا، تاکہ ان کی شناخت اور نقل و حرکت ریکارڈ نہ ہو سکے۔

حیرت انگیز طور پر یہ چوری کئی گھنٹوں تک جاری رہی، جس کی وجہ سے اسپتال کے سیکیورٹی عملے کی کارکردگی اور غفلت پر شدید شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ انٹیلی جنس اور اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طویل کارروائی میں اسپتال کے اپنے ہی بعض ملازمین یا سیکیورٹی اہلکاروں کے ملوث ہونے کا قوی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

### **معصوم بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات**

طبی ماہرین اور تکنیکی ذرائع کے مطابق، آکسیجن پائپ لائن کو نقصان پہنچنے، پائپ کٹنے یا چوری ہونے کی صورت میں پورے اسپتال کا سینٹرل آکسیجن سپلائی نظام (Oxygen Supply System) اور اس سے جڑی دیگر اہم گیس لائنیں شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال آئی سی یو (ICU)، نرسری اور بچوں کے وارڈ میں داخل ان پسماندہ اور نازک مریضوں کے لیے انتہائی سنگین اور جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے جن کی سانسیں اس آکسیجن سپلائی کی مرہونِ منت ہیں۔

### **اسپتال انتظامیہ کا غیر سنجیدہ مؤقف اور تحقیقات**

دوسری جانب، جب اس انتہائی حساس معاملے پر اسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے روایتی سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ چوری کا یہ واقعہ “معمولی نوعیت” کا ہے اور اس سے فی الحال کوئی بڑا نظام متاثر نہیں ہوا۔ تاہم، عوامی اور سماجی دباؤ کے بعد انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ معاملے کی اندرونی تحقیقات (Inquiry) شروع کر دی گئی ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد ہی ملوث عناصر کے خلاف محکمانہ یا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

عوامی و سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بچوں کے وارڈ سے لائف سیونگ آکسیجن پائپ چوری ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میئر کراچی اور صوبائی وزیرِ صحت سے فوری ایکشن لینے اور ملوث مجرموں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

> **ہماری مہم کا حصہ بنیں:**
> سرکاری اسپتالوں میں غریب مریضوں کے حقوق، طبی نظام کی سیکیورٹی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کے مشن میں **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن راستس نیوز پورٹل) کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کو بلا خوف و خطر منظرِ عام پر لانے اور انتظامیہ کو جوابدہ بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
> **تعاون کے لیے یہاں کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں