**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی سی پورٹ ٹیم نے کراچی میں ایک انتہائی مربوط اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر سرگرم حوالہ ہنڈی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کارروائی کے دوران غیر قانونی طور پر منتقل کی جانے والی بھاری رقم برآمد کر کے نیٹ ورک کے اہم ترین مہروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، چھاپے کے دوران موقع سے **38 لاکھ روپے** کی نقد رقم برآمد کی گئی ہے۔ اس غیر قانونی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے حکام نے ایک بحری جہاز کے کپتان اور لانچ کے مالک سمیت گینگ کے دیگر مرکزی ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے۔
### **ایرانی شراب کی اسمگلنگ اور دبئی کنکشن کا انکشاف**
ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ گرفتار ملزمان بڑے پیمانے پر ایرانی شراب کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ اس بین الاقوامی اسمگلنگ اور غیر قانونی دھندے سے حاصل ہونے والی لاکھوں روپے کی خطیر رقم کو بینکاری نظام کے بجائے ہنڈی حوالہ کے غیر قانونی اور خفیہ راستوں سے پاکستان منتقل کیا جا رہا تھا۔
### **دبئی میں لانچ کی فروخت اور منی لانڈرنگ**
دورانِ تفتیش یہ سنگین انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملزمان نے متحدہ عرب امارات (دبئی) میں موجود ایک بحری لانچ کو **80 لاکھ روپے** میں فروخت کیا تھا۔ اس فروخت سے حاصل ہونے والی تمام تر رقم کو بھی ملکی قوانین اور اسٹیٹ بینک کے ضوابط کو بائی پاس کرتے ہوئے، غیر قانونی طریقے (حوالہ ہنڈی) سے پاکستان منتقل کیا گیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق، گرفتار ملزمان کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور منی لانڈرنگ کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ نیٹ ورک کے دبئی اور ایران میں موجود دیگر سہولت کاروں اور پاکستان میں رقم وصول کرنے والے گروہ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
—
> **ہماری مہم کا حصہ بنیں:**
> منی لانڈرنگ، سمگلنگ اور معاشی جرائم کے خلاف بروقت آواز اٹھانے کے مشن میں **HRNW** (دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل) کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کو فروغ دینے اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
> **تعاون کے لیے یہاں کلک کریں:** [HRNW Support Link](https://www.google.com/search?q=https://www.hrnww.com/%3Fpage_id%3D1083)


