کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائیکورٹ میں شہر کے مختلف علاقوں سے 6 لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت
دو شہری ذوالفقار اور عبد الحق واپس گھروں پر پہنچ گئے،پولیس رپورٹ
عدالت نے دونوں شہریوں کی گمشدگی کی درخواستیں نمٹادی
صفیہ ناز کا بیٹا ناظم آباد سے جبکہ مسمات شبانہ کا بیٹا ٹیپو سلطان پولیس اسٹیشن کی حدود سے لاپتا تھے،وکیل درخواست گزار
بیٹے نے گھر واپسی کے بعد لاپتا کرنیوالوں کے نام پولیس کو بتائے ہیں۔ وکیل درخواست گزار
پولیس تعاون کے بجائے مختلف حیلے بہانے کر رہی ہے ،وکیل درخواست گزار
اس عدالت میں گمشدگی کا معاملہ نمٹ گیا، پولیس رویئے کیلیے متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کریں، عدالت
لاپتا افراد کے معاملات میں پولیس کے کام کرنے کے طریقہ کار پر جسٹس ظفر راجپوت کا اظہار ناراض
کوئی ایس او پی بنایا گیا ہے کہ تفتیش کیسے کی جائے گی ۔ جسٹس ظفر راجپوت
مسمات فاطمہ سکینہ کی مالی امداد کی کارروائی کررہے ہیں، تفتیشی افسر
انکے بیٹے کی گمشدگی کو چار سال ہوگئے ،اس میں کیا پیشرفت ہوئی ۔عدالت
شناختی کارڈ،پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی لیتے ہیں یا نہیں ۔ عدالت
درخواست گزار کا بیٹا ذوالفقار نے ایک بار 2015میں ایران کا سفر کیا تھا۔تفتیشی افسر
دیگر تفصیلات کے لیے مختلف محکموں کو لیٹرز لکھے ہیں ، جواب نہیں ایا
بس یہی کرتے ہیں، ہر سماعت پر کمپیوٹر سے پیپر نکال کر عدالت لے کر آجاتے ہیں۔جسٹس ظفر راجپوت
آپ کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ شہری لاپتہ ہے یا خود روپوش ہے۔ عدالت
عدالت کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں ، تفتیشی افسر
عدالتوں کو چھوڑیں یہ بعد میں آتی ہیں، پہلے اپنے کام پر توجہ دیں۔ عدالت
30اپریل کو مکمل تفصیلات کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں،عدالت
سماعت نے لاپتا افراد کے کیسز کی سماعت 30اپریل تک ملتوی کردی


