کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گلشن معمار سے لاپتا پولیو ورکر سمیت چار لڑکیوں کی بازیابی کی درخواست پر سماعت پر آئی جی سندھ پولیس عدالت کے فوری طلبی پر پیش ہوئے، ان کے ساتھ ڈی آئی جی ایسٹ ،ایس ایس پی انوسٹی،ایس ایچ او سائٹ سپر ہائی اور تفتیشی افسر پیش
قائمقام پراسکیوٹر جنرل سندھ منتظر مہدی عدالت میں پیش ، پولیس کی جانب سے پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، عدالت نےسوال کیا کہ آئی جی صاحب اور پراسکیوٹر جنرل صاحب یہ کیا ہورہا ہے صوبے میں ؟ ایک آدمی کی چار بچیاں کئی سالوں سے لاپتا ہیں آپ سب اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آپ کی حالت کیسی ہوگی ؟
جو داستان ہم نے سنی ہے انتہائی تشویشناک ہے ،جسٹس عرفان سعادتِ نے کہا کہ اس کیس کو ہم نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ارسال کررہے ہیں آپ لوگ ویڈیو لنک کے ذریعہ پیش ہوں،
پراسیکوٹر جنرل نے بتایا کہ ایک بچی انتقال کرگئی ہے بچی نے کالا پتھر کھا لیا تھا ، دوسری بچی واپس آئی تھی اس نے اپنی مرضی سے پسند کی شادی کرلی ہے ،دو بچیوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں ،
آئی جی سندھ نے کہا کہ ہماری پولیس ٹیم اس سلسلے میں پنجاب گئی تھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ تیسری لڑکی ذکیہ کو بازیاب کروالیا گیا ہے ، ذکیہ کو کچھ دیر بعد وہاں کی مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا ، ہم اس کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے رہے ہیں ،
ہمیں دو ماہ کی مہلت دی جائے ،پراسکیوٹر جنرل سندھ کی عدالت سے استدعا پر جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اتنا حساس کیس ہے آپکو دو ماہ کا وقت دیں ، یہ انتہا ہے کہ ایک آدمی ہی بچیاں اغواء ہوئیں اور پھر انہی کے اوپر اور انکے داماد کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ، ان متاثرین کو جیلوں میں قید کیا گیا ہے یہ ہوکیا رہا ہے ،
جسٹس شفیع صدیقی نے کہا کہ اچھی بات ہے اچھے افسران سے تفتیش کرائیں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے ، بعدازاں عدالت نے کیس کی تفتیش مکمل کرنے کے لیے پولیس کو 15 دن کی مہلت دے دی، دو رکنی بینچ نے کیس چیف جسٹس آف پاکستان کو ارسال کردیا


