سندھ ہائی کورٹ نے نابینا وکیل کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی بھرتی کا حکم دے دیا

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائیکورٹ میں‌ نابینا وکیل کو جوڈیشل مجسٹریٹ بھرتی کرنے کے قوانین میں نرمی کا کیس میں سماعت میں‌ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سید صادق حسین کی درخواست پر فیصلہ سنادیا

عدالت نے نابینا وکیل کو سندھ جوڈیشل سروسز رولز کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ بھرتی کرنے کا حکم دے دیا

عدالتی فیصلے پر چار ہفتوں پر عمل درآمد کیا جائے ،سندھ ہائیکورٹ

اگر کوئی آسانی خالی نا ہو تو آئندہ آنے والی آسامی پر بھرتی کیا جائے، سندھ ہائیکورٹ

درخواست گزار پریکٹسنگ وکیل ہے وکالت کے ذریعہ اپنا گزر بسر کرسکتے ہیں ،عدالت

درخواست گزار کی سنیارٹی کا معاملہ ایڈمنسٹریٹو کمیٹی پر چھوڑتے ہیں ،سندھ ہائی کورٹ

عدالتی فیصلے کی نقول سیکرٹری قانون اور رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو ارسال کرنے کا حکم

جوڈیشل مجسٹریٹ کی بھرتیوں کے لیے یکم دسمبر 2014 کو اخبار میں اشتہار شائع ہوا تھا ،عدالت

سلیکشن کمیٹی کی سفارش کے بعد درخواست گزار میڈکل بورڈ کے سامنے پیش ہوا،وکیل درخواست گزار

تاہم بصارت کی خرابی کی وجہ سے میڈیکل سرٹیفکیٹ روک لیا گیا تھا ،وکیل درخواست گزار

درخواست گزار کو کہا گیا کہ میڈیکل فٹنس میں رعایت کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کریں ،وکیل درخواست گزار

درخواست گزار نے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو درخواست دی مگر اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی تھی ،وکیل درخواست گزار

عدالت سے استدعا ہے کہ میڈکل فٹنس کے لیے قانون میں نرمی کی جائے ،درخواست گزار

22 جولائی 2015 کو سیلیکشن کمیٹی کی سفارشات کے مطابق تنخواہ اور مراعات دی جائیں ،درخواست گزار

اپنا تبصرہ بھیجیں