سندھ ہائی کورٹ (ایچ آراین ڈبلیو) بحریہ ٹاؤن کے مکینوں کی ٹول ٹیکس وصولی کے خلاف درخواست کی سماعت
عدالت نے ٹول ٹیکس وصولی کے خلاف درخواست مسترد کردیں
ٹول ٹیکس وصولی سے متعلق معاہدہ این ایچ اے اور اسکور کے درمیان ہے، عدالت
عدالت کے سامنے درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں، عدالت
آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست گزار کا متاثرہ فریق ہونا ضروری ہے، عدالت
نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایکٹ 1991 کے مطابق قومی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس وصول کیا جاسکتا ہے، عدالت
ملک کا آئین آمد ورفت کی آزادی کا تحفظ فراہم کرتا ہے، عدالت
ٹول ٹیکس کی وصولی آمد ورفت کی آزادی کو متاثر نہیں کرتی، عدالت
درخواست گزاروں کی جانب سے معاہدے کی غلط تشریح پیش کی گئی، وکیل اسکور
معاہدہ ٹول سے قبل شہری ٹریفک سے متعلق تھا، وکیل اسکور
ایم نائن موٹروے کے 136 کلومیٹر ٹریک پر ٹول وصولی کی قانون اجازت دیتا ہے، وکیل اسکور
ایم نائن موٹروے پر متعدد ہاوسنگ سوسائٹیز ہیں، وکیل اسکور
اگر درخواست گزاروں کو سہولت فراہم کی ہے تو باقی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوگا، وکیل اسکور
ٹول ٹیکس وصولی کے خلاف درخواست بحریہ ٹاؤن کے 46 مکینوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی
درخواست پر 2021 میں سندھ ہائی کورٹ نے بحریہ ٹاؤن جانے والی گاڑیوں سے ٹول ٹیکس وصولی پر حکم امتناع جاری کیا تھا


